پاکستان پیپلز پارٹی پالیمنٹرینز کے سینیٹر اشرف علی جتوئی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کسانوں، تعلیم، صحت، نرسنگ تربیت اور قومی انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
سینیٹر اشرف علی جتوئی کا بجٹ میں کسانوں، تعلیم، صحت اور کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر توجہ بڑھانے کا مطالبہ
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی پالیمنٹرینز کے سینیٹر اشرف علی جتوئی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کسانوں، تعلیم، صحت، نرسنگ تربیت اور قومی انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ جمعرات کو سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران سینیٹر اشرف علی جتوئی نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے کسانوں کو سہولیات فراہم کرنے اور کھاد سمیت زرعی ضروریات کی دستیابی کو بہتر بنانے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کیلئے سولر پینلز کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں بجٹ بڑھانے اور نرسنگ کی تعلیم و تربیت کے لئے مزید وسائل مختص کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تربیت یافتہ نرسنگ سٹاف کی تیاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو مزید موثر انداز میں بروئے کار لا سکتا ہے۔ سینیٹر جتوئی نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے جامعات کو درکار مالی وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط تعلیمی ادارے ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے تسلسل کے لئے مناسب فنڈنگ ناگزیر ہے۔ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی مرکز کی بنیادی ضروریات اور انفراسٹرکچر منصوبوں خصوصا ًکے-فور واٹر سپلائی منصوبے اور ایم-6 موٹروے، کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جانا چاہئے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں اور اقتصادی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ایک کامیاب سماجی تحفظ کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے مستحق خاندانوں کیلئے امدادی رقوم میں اضافے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام کم آمدنی والے طبقات کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سینیٹر اشرف علی جتوئی نے کہا کہ بجٹ میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کاروباری سرگرمیوں، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا باعث بنیں تاکہ ملک پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہو سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت مختلف شعبوں سے متعلق تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی فلاح اور قومی ترقی کے اہداف کو مزید موثر انداز میں آگے بڑھائے گی









