اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):سینیٹر ناصر محمود کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ لاجز کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں لاجز کی مرمت، دیکھ بھال اور 104 نئے لاجز کی تعمیر سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر پونجو بھیل، ہدایت اللہ خان، حسنیٰ بانو اور سید وقار مہدی نے شرکت کی۔کمیٹی ارکان نے ناقص مرمتی کاموں، بغیر ٹینڈر کے منصوبوں کی تکمیل اور تاخیر پر …
سینیٹر ناصر محمود کی زیرِ صدارت اجلاس ، پارلیمنٹ لاجز کے تعمیراتی و مرمتی کاموں کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):سینیٹر ناصر محمود کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ لاجز کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں لاجز کی مرمت، دیکھ بھال اور 104 نئے لاجز کی تعمیر سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر پونجو بھیل، ہدایت اللہ خان، حسنیٰ بانو اور سید وقار مہدی نے شرکت کی۔کمیٹی ارکان نے ناقص مرمتی کاموں، بغیر ٹینڈر کے منصوبوں کی تکمیل اور تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سینیٹر وقار مہدی (لاجز H-08) نے غیر معیاری کاموں کے باوجود ٹھیکیداروں کو کی گئی ادائیگیوں، ناکارہ فائر فائٹنگ سسٹم اور ناقص دیکھ بھال کی نشاندہی کی۔سی ڈی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ 69 لاجز کے ٹینڈرز جلد جاری کئے جائیں گے اور 50 سے 60 سوئٹس بشمول لاج H-08 کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 870 ملین روپے کے واجبات زیرِ التواء ہیں اور وزارتِ خزانہ کو فنڈز کے اجرا ء کے لئے سمری بھیج دی گئی ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ کسی بھی منصوبے کی تکمیلی رپورٹ کی متعلقہ سینیٹر کے دستخط کے بغیر ادائیگی نہ کی جائے اور تمام کاموں کے لئے وارنٹی پیریڈ لازمی قرار دیا جائے۔
مزید برآں مواد کے معیار کو یقینی بنانے، مرمتی کاموں کو آؤٹ سورس کرنے اور ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی۔پلاننگ کمیشن نے بتایا کہ منصوبے کی لاگت 7.8 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور کسی بھی ڈیزائن میں تبدیلی سے یہ رقم 10 ارب روپے تک بڑھ سکتی ہے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آڈٹ اعتراضات سے بچنے کے لئے کسی بھی ڈیزائن میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے 104 نئے لاجز کے تعمیراتی کام کا جائزہ لینے کے لئے 17 نومبر کو سائٹ وزٹ کا شیڈول بھی طے کیا جس میں کنسلٹنٹ اور کنٹریکٹر بھی شریک ہوں گے۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے شفافیت، جوابدہی اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا۔








