پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے وفاقی اکائیوں کے درمیان مالیاتی توازن، مزدوروں کی فلاح، زراعت، تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیا۔
سینیٹر ندیم احمد بھٹو کا بجٹ اجلاس میں قومی یکجہتی، معاشی اصلاحات اور سندھ کے مسائل کے حل پر زور
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے وفاقی اکائیوں کے درمیان مالیاتی توازن، مزدوروں کی فلاح، زراعت، تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیا۔ جمعرات کو سینیٹ کے بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ وفاقی مالیاتی نظام کا بنیادی ستون ہے اور آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد اس کا اجرا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کا فوری اعلان کیا جائے تاکہ صوبوں کو ان کا جائز مالی حصہ مل سکے۔ سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے مزدور طبقے کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کم از کم اجرت 50 ہزار روپے مقرر کرنے اور مہنگائی کی موجودہ شرح کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود معاشی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔انہوں نے پاکستان کی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے جامع زرعی انشورنس پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کو نظر انداز کرنے سے خوراک کی قلت، مہنگائی اور دیہی بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تعلیم کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعات اور کالجوں کے تعلیمی معیار کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ کو اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے پر بھاری اخراجات برداشت نہ کرنا پڑیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ماحول دوست پالیسیوں، کاربن کے اخراج میں کمی، پلاسٹک کے محدود استعمال اور شجرکاری مہمات کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے سندھ کے توانائی وسائل اور قومی معیشت میں صوبے کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ملک کو توانائی اور ریونیو فراہم کر رہا ہے تاہم دیہی علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے جس کے حل کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔سینیٹر بھٹو نے کراچی تا سکھر موٹروے (ایم-6) منصوبے سمیت سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کا اہم تجارتی اور معاشی مرکز ہے جس کی ترقی قومی معیشت کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے سندھ کے ساحلی اضلاع ٹھٹھہ، بدین اور سجاول میں سمندر بردی کے مسئلے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہو چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اور جامع حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے پاکستان کے قدرتی وسائل، زرعی پیداوار، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور قومی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بے پناہ استعداد کا حامل ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد اور پاکستان کی ترقی کے لیے اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد، بہتر معاشی منصوبہ بندی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان کو درپیش چیلنجز پر قابو پا کر ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔









