سینیٹ میں اپوزیشن ارکان کا ملک کے مختلف علاقوں میں اضافی ترقیاتی اقدامات کا مطالبہ

سینیٹ میں اپوزیشن ارکان کا ملک کے مختلف علاقوں میں اضافی ترقیاتی اقدامات کا مطالبہ

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے ملک کے مختلف علاقوں کو درپیش مسائل اور ترقیاتی ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔منگل کو مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران سینیٹر دوست محمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سابق فاٹا کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے لئے وہاں کے ترقیاتی فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے، اس لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے یہاں کے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو مستفید کیا جائے۔سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ ان کا تعلق چترال سے ہے جہاں کی آبادی ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چترال میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے خصوصی فنڈز مختص کئے جائیں اور مقامی آبادی کو ترقی اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کئے جائیں۔سینیٹر زرقہ سہروردی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنی آمدن میں اضافے کے لئے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا چاہئے اور اقتصادی اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جائے اور صحت و تعلیم کے شعبوں کے لئے زیادہ وسائل مختص کئے جائیں۔سینیٹر مشال اعظم نے کہا کہ قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے جس کے لئے پائیدار اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تمباکو ایک اہم نقد آور فصل ہے اور تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافے سے کاشتکاروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے، لہٰذا صوبے کی پولیس کو جدید سہولیات اور اضافی فنڈز فراہم کئے جائیں تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔بجٹ بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے علاقائی ترقی، معاشی اصلاحات، سماجی بہبود اور امن و امان کے شعبوں میں حکومتی توجہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔