سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان وسیفران کا اجلاس

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان وسیفران کا اجلاس

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان وسیفران کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ لاجز کے اولڈ پِپس ہال میں سینیٹر اسد قاسم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹر ندیم احمد بھٹو، سینیٹر فیصل سلیم رحمان اور ناصر محمود نے شرکت کی جبکہ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔ متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔کمیٹی کو مطلع کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کا قانون 1975 کے تحت ہے جو مختلف شیڈولز کے تحت کنٹرول شدہ اور منظم شکار کی اجازت دیتا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو مزید آگاہ کیا کہ خطے کا پہلا نیشنل پارک، خنجراب نیشنل پارک 1975 میں قائم کیا گیا تھاپارٹیسپیٹری نیچرل ریسورس منیجمنٹ (این آر ایم) کا تصور 1980 کی دہائی کے آخر میں مقبولیت حاصل کرتا گیا جس نے تحفظ کی کوششوں میں کمیونٹیز کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی راہ ہموار کی۔

کمیٹی کو مزید بریفنگ دی گئی کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام 1998 شروع کیا گیا۔ فی الحال گلگت بلتستان بھر میں 63 کمیونٹی کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریاز (سی سی ایچ ایز) میں ٹرافی ہنٹنگ جاری ہے جو جی بی ٹرافی ہنٹنگ گائیڈلائنز 2019 کے تحت منظم کی جاتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ پروگرام ایک کامیاب کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن ماڈل کے طور پر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے جس میں ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والے ریونیو کا 80 فیصد مقامی کمیونٹیز کو جبکہ 20 فیصد حکومت کے پاس رکھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پروگرام میں تین اقسام کے جانور شامل ہیں ان میں استور مارخور، بلیو شیپ اور ہمالین آئی بیکس شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ استور مارخور کے لیے چار ایکسپورٹیبل پرمٹس مختص کئے گئے ہیں جبکہ بلیو شیپ کے لیے آٹھ ایکسپورٹیبل اور چھ نان ایکسپورٹیبل پرمٹس مختص ہیں۔

اسی طرح ہمالین آئی بیکس کے لیے 50 ایکسپورٹیبل اور 50 نان ایکسپورٹیبل پرمٹس مختص کیے گئے ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تحت اتھارٹی ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ مختص کرنے کا ذمہ دار ہے جو بشمول استور مارخور کے لیے کوٹہ طے کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پروگرام کے تحت کل 590 جانوروں کا کوٹہ مختص کیا گیا۔ ان میں سے 181 پرمٹس غیر ملکی شکاریوں کو اور 138 پرمٹس ملکی اور مقامی شکاریوں کو جاری کئے گئے۔ کل 319 ہنٹس کامیابی سے مکمل کیے گئے جن میں 17 استور مارخور، 39 بلیو شیپ اور 263 ہمالین آئی بیکس شامل ہیں۔چیئرمین کمیٹی کے آبادی کے تخمینہ کے طریقہ کار کے بارے میں پوچھنے پر حکام نے بتایا کہ مقامی کمیونٹیز ابتدائی تخمینے دیتی ہیں، جن کی بعد میں محکماتی فیلڈ سروے کے ذریعے تصدیق کی جاتی ہے۔ 15 سے 20 جانوروں کا معمولی فرق ہو سکتا ہے تاہم اعداد و شمار عموماً قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام نے گزشتہ پانچ ہنٹنگ سیزن (2021–22 سے 2025–26 تک) کے دوران 1,008.72 ملین روپے کا ریونیو حاصل کیا۔ اس میں سے 80 فیصد (806.977 ملین روپے) مقامی کمیونٹیز میں تقسیم کئے گئے جبکہ 20 فیصد (201.741 ملین روپے) حکومت نے رکھا۔

حکام نے بتایا کہ 2025–26 سیزن میں ایران-امریکہ تنازع کی وجہ سے غیر ملکی شکاریوں کی کم شرکت کے باعث ریونیو میں کمی آئی جس سے کامیاب ہنٹس کی تعداد کم ہوئی۔ اس کے بعد حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ غیر ملکی شکاریوں کو مختص پرمٹس کے خلاف ایڈوانس ادائیگی کرنا ضروری ہے اور غیر استعمال شدہ کوٹہ پر ریفنڈ جاری کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریفنڈ کا طریقہ کار غیر ملکی شکاریوں کی طرف سے اچھی طرح قبول کیا گیا ہے۔بحث کے دوران سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے استور مارخور کی آبادی کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔

حکام نے بتایا کہ آبادی تقریباً 7,500 جانوروں پر مشتمل ہے۔ سینیٹر نے کہا کہ قدرتی اموات اور نر جانوروں کے درمیان علاقائی تنازعات اہم ہو سکتے ہیں، انہوں نے غیر قانونی شکار کو روکنے اور تحفظ و کمیونٹیز کے لیے ریونیو میں اضافے کے لیے ہنٹنگ کوٹہ کا جائزہ لینے کی تجویز دی۔تفصیلی غور و فکر کے بعد کمیٹی نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک سب کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سب کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ گلگت بلتستان کا دورہ کرے، تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے اور 30 دن کے اندر ایک جامع رپورٹ پیش کرے۔حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ گلگت بلتستان میں جنگلات کا احاطہ 4.82 فیصد ہے جس میں سوشل فارمنگ بھی شامل ہے۔ گلگت بلتستان فاریسٹ ایکٹ 2019 کے تحت ضلع دیامر کے جنگلات کو پرائیویٹ جنگلات (71 فیصد) قرار دیا گیا ہے جبکہ باقی 29 فیصد محفوظ جنگلات ہیں۔ جنگلات کی ملکیت 1952 کے سکسیشن ڈیڈ اور فاریسٹ ایکٹ 2019 سے نکلتی ہے اور ان کا انتظام متعلقہ قوانین اور منظور شدہ ورکنگ پلانز کے مطابق کیا جاتا ہے۔

کمیٹی نے غیر قانونی جنگلات کی کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور پائیدار جنگلات کے انتظام کو یقینی بنانے کے لیے موثر نفاذ کے طریقہ کار اور شفاف اجازت کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ تفصیلی بریفنگ کے بعد چیئرمین کمیٹی نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک سب کمیٹی قائم کی۔کمیٹی کو سابقہ پرنسلی سٹیٹس کے مستفیدین اور ان کے ڈیپنڈنٹس کے لیے منظور شدہ بجٹی پروویژنز کے تحت مینٹیننس الائونسز پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ان میں امیر بہاولپور، میر خیرپور، چترال کے نوٹیبلز، سابقہ نوابوں آف دیر و مکران ،سابقہ خان آف قلات کے ورثاء، نواب آف جونا گڑھ، خان آف مناوادر اور شیخ صاحب آف منگروڑ شامل ہیں۔ان مستفیدین کے لیے کل سالانہ الائونس 40.936 ملین روپے ہے جو امور کشمیر اور خزانہ کی وزارتوں کے بجٹ کے ذریعے منظور شدہ قواعد کے مطابق ادا کیا جاتا ہے۔

سابقہ اور الحاق شدہ ریاستوں کے امور اور مراعات پر تفصیلی بریفنگ کے بعد کمیٹی نے اس معاملے کو اگلے اجلاس میں مزید غور و فکر کے لیے ملتوی کر دیا۔ کمیٹی نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ جامع تفصیلات فراہم کریں جن میں استعمال میں لائے جانے والے گاڑیوں کی تعداد، ان کا استعمال کا درجہ، بجٹی الائونسز، اس طرح کے الائونسز کے حوالے سے قانونی اور انتظامی فریم ورک اور بجٹ کی تقسیم کے فیصلوں کے ذمہ دار اتھارٹی شامل ہوں۔