سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے متفقہ طور پر ’’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) (منسوخی) بل، 2026‘‘ منظور کر لیا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے متفقہ طور پر ’’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) (منسوخی) بل، 2026‘‘ منظور کر لیا
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے متفقہ طور پر ’’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) (منسوخی) بل، 2026‘‘ منظور کر لیا۔پیر کو سینٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، علاقائی فضائی رابطوں، فضائی حفاظت اور ہوائی جہازوں کےکرایوں کے حوالے سے عوامی خدشات سمیت اہم امور پر غور کیا گیا۔
کمیٹی نے سب سے پہلے ’’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) (منسوخی) بل، 2026‘‘ پر مزید غور کیا، جسے 12 مئی 2026 کو ایوان نے کمیٹی کے سپرد کیا تھا۔ بل پر غور و خوض کے دوران حکام نے کمیٹی کو نجکاری کے عمل، اس سے متعلقہ تقاضوں، ٹائم لائن اور قانونی فریم ورک پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، نجکاری کمیشن کے نمائندوں بشمول مشیر برائے نجکاری محمد علی اور متعلقہ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اس بل کی منسوخی ضروری ہے، جبکہ پی آئی اے کا نام اور برانڈ شناخت برقرار رہے گی۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر ’’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) (منسوخی) بل، 2026‘‘ منظور کر لیا۔بعد ازاں کمیٹی نے مجوزہ ویٹ لیز آپریشنز، علاقائی فضائی رابطوں خصوصاً شمالی علاقوں کے لیے پروازوں، فضائی تحفظ، آپریشنل تیاری اور ریگولیٹری نگرانی کا جائزہ لیا۔وزارتِ دفاع کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ویٹ لیز کے تحت دوسرے طیارے کی آپریشنل منظوری زیر غور ہے۔ سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ گلگت اور چترال دنیا کے مشکل ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتے ہیں اور یہاں پروازوں کے لیے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے ۔ایئر سیال جیسی ایئرلائنز نے ان روٹس پر آپریشن شروع کرنے سے قبل تقریباً ایک سال تک اپنے پائلٹس کی تربیت کی تھی، جبکہ گلگت کی پروازیں اکثر خراب موسم کے باعث متاثر ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’غیر ملکی عملہ اچھا ہو سکتا ہے، لیکن مقامی حالات کا تجربہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔‘‘ ان کہ چترال، اسکردو اور گلگت جیسے شمالی مقامات کے لیے مقامی آپریشنل واقفیت اور روٹ کے مطابق تربیت ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو بعض غیر ملکی آپریٹڈ طیاروں کے مینٹیننس سسٹمز پر براہِ راست نگرانی حاصل نہیں، اور کسی قانونی پیچیدگی کی صورت میں جوابدہی اور دائرہ اختیار کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے شمالی علاقوں کی پروازوں کی حساسیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت گلگت روٹ پر صرف ایک طیارہ باقاعدگی سے پرواز کرتا ہے اور کئی مواقع پر یہ سروس تقریباً ہفتہ وار ایک پرواز تک محدود رہ جاتی ہے۔ سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ ساؤتھ ایئر کو اپنی سروسز شروع کرنے کے لیے ضروری اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا، ’’گلگت کے لیے صرف ایک طیارہ تقریباً ہفتہ وار بنیادوں پرپرواز کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زمینی راستے سے اس علاقے تک سفر میں 18 گھنٹے تک لگ سکتے ہیں، اس لیے قابلِ اعتماد فضائی رابطہ انتہائی اہم ہے۔سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے ہوا بازی اور سیاحت سے متعلق شعبوں میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ چترال، گلگت اور دیگر دور دراز علاقوں کے لیے یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ ویٹ لیز آپریشنز کی اجازت پہلے سے موجود ہے۔‘ساؤتھ ایئر کے مشیر نے مجوزہ منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ویٹ لیز آپریشنز بذاتِ خود غیر محفوظ نہیں ہوتے اور زیر غور آپریٹرز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فضائی معیار کے مطابق تصدیق شدہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ویٹ لیز آپریشنز فطری طور پر خطرناک نہیں ہوتے۔ ہم یہ عملہ افریقہ سے نہیں لائے، یہ آئی اے ایس اے سرٹیفائیڈ ہیں اور ہم جوابدہ ہوں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ وہ 34 سال پاک فضائیہ اور 7 سال سول ایوی ایشن کے شعبے میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں فضائی حادثات زیادہ تر پی آئی اے کے طیاروں سے متعلق رہے ہیں اور زیر بحث منصوبے میں تقریباً 60 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔سینیٹر انوار الحق نے مسافروں اور صارفین کے تحفظ کے لیے کمیٹی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہاں عوام کے لیے بیٹھے ہیں۔‘انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی پاکستان میں سرمایہ کاری یا نئی ایئرلائنز کی مخالف نہیں۔جوائنٹ سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ایوی ایشن میں لائسنسنگ کا عمل انتہائی تفصیلی ہوتا ہے اور عام طور پر اس میں مہینوں نہیں بلکہ برسوں لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ایئرلائن نے گزشتہ سال لائسنس حاصل کیا تھا جبکہ اس کا پہلا طیارہ عید سے قبل اکتوبر یا نومبر میں سامنے آیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ گوادر، تربت اور گلگت جیسے روٹس پر اے ٹی آر طیارے اڑانے والے پائلٹس کو خصوصی تربیت درکار ہوگی۔حکام نے بتایا کہ پی آئی اے ماضی میں ایئر سیال اور ایئر بلیو سمیت دیگر ایئرلائنز کے پائلٹس کو کئی سال تک تربیت فراہم کرتی رہی ہے، جس کے بعد انہوں نے مشکل داخلی روٹس پر آپریشن شروع کیے۔سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے خود بھی ماضی میں ویٹ لیز پر حاصل کردہ طیارے استعمال کرتی رہی ہے، لہٰذا سرمایہ کاری اور مقابلے کی فضا کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔سیکریٹری دفاع نے واضح کیا کہ حکومت سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتی ہے لیکن حفاظتی تقاضوں اور ریگولیٹری اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ اگر سرمایہ کاری پاکستان آئے تو ہم سب سے زیادہ خوش ہوں گے۔‘سینیٹر مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا کہ فضائی صنعت کے تمام اداروں پر یکساں ضوابط اور تعمیل کے اصول لاگو ہونے چاہئیں.سیکریٹری دفاع نے کہاکہ ویٹ لیز آپریشنز قانونی طور پر جائز ہیں لیکن یہ معاملہ کچھ مختلف نوعیت کا ہے۔مالٹا یا اٹلی کو آپریشنل جوابدہی کے حوالے سے خودمختار سطح کی ضمانت فراہم کرنی چاہیے۔ایئرلائن کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہایئرلائن اپنی مجوزہ 14 منزلوں میں سے 11 کے لیے آپریشنل اجازت کی خواہاں ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری ایوی ایشن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمام مطلوبہ دستاویزات، آڈٹس اور پروونگ فلائٹس مکمل ہو چکی ہیں اور منصوبہ ریگولیٹری منظوری کے آخری مرحلے میں ہے۔طویل غور و خوض کے بعد چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ 11 منزلوں کے لیے آپریشنل منظوری میں سہولت فراہم کی جائے، تاہم چترال، اسکردو اور گلگت کی پروازوں کے لیے پائلٹس کو پی آئی اے سے روٹ کے مطابق خصوصی تربیت دلائی جائے۔کمیٹی نے بعد ازاں سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر دانش کمار کی جانب سے کوئٹہ پروازوں کے بڑھتے ہوئے کرایوں سے متعلق عوامی اہمیت کے نکتے پر بھی غور کیا۔ بحث کے دوران ارکان نے کرایوں کے تعین، مسابقتی ماحول اور صارفین کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے محدود مقابلے کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کی اور کوئٹہ روٹ پر غیر معمولی طور پر زیادہ ریٹرن کرایوں کی مثالیں پیش کیں۔سیکریٹری دفاع نے کمیٹی کو بتایا کہ کرایوں میں بگاڑ عموماً وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مؤثر ریگولیٹری نظام اور مسابقت کا فقدان ہو۔کمیٹی نے مؤثر کرایہ جاتی ضابطہ کاری، مسابقت میں اضافے اور عوام خصوصاً بلوچستان اور شمالی پاکستان جیسے کم سہولیات والے علاقوں کے لیے سستی فضائی سفر کی سہولت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر انوار الحق، سینیٹر مصدق ملک، سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر کامران مرتضیٰ، وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وزارتِ دفاع، ایوی ایشن ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








