اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پی اے آر سی/این اے آر سی کے سائنسدانوں کی جانب سے تیار کردہ نئی بیجوں کی اقسام پر ہونے والی تازہ تحقیق اور گرین پاکستان انیشی ایٹو پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں بالخصوص لائیوسٹاک سیکٹر پر توجہ …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کا دورہ، لائیوسٹاک سیکٹر پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پی اے آر سی/این اے آر سی کے سائنسدانوں کی جانب سے تیار کردہ نئی بیجوں کی اقسام پر ہونے والی تازہ تحقیق اور گرین پاکستان انیشی ایٹو پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں بالخصوص لائیوسٹاک سیکٹر پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں سینیٹر پونجو بھیل اور سینیٹر راحت جمالی نے شرکت کی۔
قائمہ کمیٹی نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (این اے آرسی ) کا دورہ کیا اور مختلف سائنسی لیبارٹریز اور تحقیقی اداروں کے کام کے حوالے سے بریفنگ دی۔ لینڈ ریسورس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے دورے کے دوران کمیٹی کو بائیو فرٹیلائزرز اور نارک کی جانب سے کسانوں کو خود بائیو فرٹیلائزر تیار کرنے کی تربیتی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
کمیٹی نے بائیو فرٹیلائزرز کی تقسیم کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا اور آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔قائمہ کمیٹی نے تحقیقی لیبارٹریز، تحقیقی اداروں، اسپیڈ بریڈنگ سہولیات اور تجرباتی کھیتوں کا بھی دورہ کیا جہاں نئی تیار کردہ بیجوں کی اقسام آزمائشی بنیادوں پر کاشت کی گئی تھیں۔ اراکین نے کسانوں اور تحقیقی نتائج کے درمیان موجود خلا کی نشاندہی کی، بالخصوص کراپ زوننگ اور زمینی سطح پر مٹی کے ٹیسٹ کے حوالے سے اور اس بات پر زور دیا کہ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فوائد براہِ راست کسانوں تک پہنچنے چاہئیں۔
چیئرمین نے وفاقی سیکرٹری اور چیئرمین پی اے آر سی کو ہدایت کی کہ تحقیق، تکنیکی ترقی اور کسانوں کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہو۔کمیٹی نے باغبانی کے کھیتوں کا بھی دورہ کیا اور فروغ دی جانے والی کچن گارڈننگ تکنیکوں کو سراہا۔ مرچ کی کاشت اور اس کی سندھ اور بلوچستان میں شجرکاری سے متعلق حالیہ تحقیقی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی، جس پر چیئرمین نے صوبہ بلوچستان کو ترجیح دینے کی ہدایت کی۔
کمیٹی کو فلوری کلچر ریسرچ پروگرام کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) اور این اے آر سی کے کردار، مینڈیٹ اور کارکردگی پر ایک جامع بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی اے آر سی اور این اے آر سی کے مؤثر مانیٹرنگ نظام کی بدولت پاکستان کو زرد زنگ جیسی بیماریوں کے باعث گندم یا چاول کی فصل کو کسی بڑے نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مزید بتایا گیا کہ کراپ ڈیزیز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تحت تقریباً 1500 گندم اور 500 چاول کی اقسام کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ کمیٹی نے گندم اور دالوں کی سپیڈ بریڈنگ سہولیات کو سراہا تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث تحقیقاتی خلا ء میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔
چیئرمین نے پی اے آر سی حکام کو ہدایت کی کہ سمارٹ ایگریکلچرکے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بیجوں کی تیاری پر توجہ دی جائے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل اپنایا جائے۔کمیٹی نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت ایک صوبائی معاملہ ہے تاہم زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
کمیٹی کو گرین پاکستان انیشی ایٹو پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بالخصوص لائیوسٹاک سیکٹر پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اراکین کو جانوروں کی ٹیگنگ اور ماڈل مویشی منڈیوں کے قیام سمیت مختلف اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ کمیٹی نے گدھوں کی فارمنگ، گوشت اور کھال کی برآمدات سے متعلق اقدامات پر سوالات اٹھائے اور اس شعبے میں منظم کوششوں کے فقدان کی نشاندہی کی۔
لائیوسٹاک پر تفصیلی بریفنگ کو سراہتے ہوئے کمیٹی نے اس شعبے کے فروغ اور ترقی کے لئے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ سمارٹ ایگریکلچر کے فروغ، فشریز ڈویلپمنٹ اور تحقیق و کسانوں کے درمیان خلا کو کم کرنے پر زور دیتے ہوئے چیئرمین نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زرعی اور لائیوسٹاک تحقیق و ترقی کے ذریعے قومی ترقی اور معاشی استحکام کے لئے اپنی کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام میڈیا ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے کسانوں میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ وہ جدید تحقیق سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔









