اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے دو اہم بلوں کی منظوری دے دی جن میں البرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025 اور دانش یونیورسٹی بل شامل ہیں۔ کمیٹی نے ان اقدامات کو اعلیٰ تعلیم کے فروغ، تعلیمی معیار کے استحکام اور جامعات میں شفاف طرزِ حکمرانی کے قیام کی …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے البرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025 اور دانش یونیورسٹی بل کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے دو اہم بلوں کی منظوری دے دی جن میں البرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025 اور دانش یونیورسٹی بل شامل ہیں۔ کمیٹی نے ان اقدامات کو اعلیٰ تعلیم کے فروغ، تعلیمی معیار کے استحکام اور جامعات میں شفاف طرزِ حکمرانی کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ جمعہ کو چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں اراکین نے دونوں مسودہ ہائے قانون کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ نئے تعلیمی اداروں کے قیام میں قانونی تقاضوں اور معیارِ تعلیم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔کمیٹی نے سب سے پہلے البرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025 کی شق وار جانچ پڑتال کی۔ یہ نجی رکن کا بل سینیٹر خلیل طاہر نے سینیٹر محمد عبدالقدیر کی جانب سے پیش کیا جو اس سے قبل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت، وزارتِ قانون و انصاف اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حکام نے بل کی مختلف شقوں پر بریفنگ دی اور اراکین کے سوالات کے جوابات دیئے۔وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ کسی بھی نئی جامعہ کی منظوری اور الحاق ایچ ای سی کے مقررہ معیار کے مطابق ہوگا اور تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے آئینی تقاضوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمیٹی مرحلے پر کوئی ترمیم منظور کی جاتی ہے تو بل کو دوبارہ قومی اسمبلی بھیجنا ہوگا۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ تمام آئینی تقاضے مکمل کئے جائیں۔ وضاحتوں کے بعد کمیٹی نے بل کی متفقہ منظوری دے دی۔بعد ازاں کمیٹی نے دانش یونیورسٹی بل پر غور کیا جو چیئر کی اجازت سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دانش یونیورسٹی وزیر اعظم کی ہدایت پر قائم کی جانے والی ایک نمایاں سرکاری جامعہ ہوگی جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدید سائنسی علوم اور بین الشعبہ جاتی تحقیق پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کے قیام کے لئے 40 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ اس کے طویل المدتی مالی استحکام کے لئے مستقل انڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔ مجوزہ ماڈل کے تحت ملک بھر سے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کو مکمل مالی معاونت فراہم کی جائے گی اور تعلیمی و رہائشی سہولیات کا معیار ممتاز نجی جامعات کے مساوی ہوگا۔بل کے تحت ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹیز تشکیل دیا جائے گا تاکہ جامعہ کو سیاسی اور انتظامی مداخلت سے محفوظ رکھا جا سکے اور میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی خودمختاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر چیئرپرسن نے دانش سکولز نیٹ ورک کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دانش یونیورسٹی بھی اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرتے ہوئے قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے دانش یونیورسٹی بل کی بھی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سینیٹر راحت جمالی، سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر خالدہ عطیب، سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر محمد عبدالقدیر اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








