اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):سکریٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ سی پیک ایک تبدیلی کا منصوبہ ہے اور اس نے پاکستان کے لئے اہم اور دوررس اقتصادی مواقع فراہم کئے ہیں۔ ہماری قومی ترقیاتی کوششوں کے لئے سی پیک کی ناگزیریت پر مکمل قومی اتفاق رائے ہے۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں ، ہم نے توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بڑی پیشرفت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ …
سی پیک ایک تبدیلی کا منصوبہ ہے ، اس نے پاکستان کے لئے اہم اور دوررس اقتصادی مواقع فراہم کئے ہیں۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا سی پیک مشترکہ ورکنگ گروپ کےدوسرےاجلاس میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):سکریٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ سی پیک ایک تبدیلی کا منصوبہ ہے اور اس نے پاکستان کے لئے اہم اور دوررس اقتصادی مواقع فراہم کئے ہیں۔ ہماری قومی ترقیاتی کوششوں کے لئے سی پیک کی ناگزیریت پر مکمل قومی اتفاق رائے ہے۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں ، ہم نے توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بڑی پیشرفت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بین الاقوامی تعاون اور کوآرڈینیشن سے متعلق سی پیک مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس جمعرات کو چین کے شہر اورومچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس سکریٹری خارجہ سہیل محمود اور چینی نائب وزیر خارجہ ژاو ہی لیوکی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں بیجنگ میں 9 اپریل 2019 کو ہونے والے افتتاحی اجلاس کے بعد ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔سکریٹری خارجہ نے کہا کہ سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ،جس میں صنعتی ، زرعی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ سی پیک کے تحت قائم کردہ خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) پاکستان کے صنعتی عمل کے عمل کو تیز کر ینگے اور اس سے معاشی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے سی پیک منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے سے متعلق حکوم پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔سکریٹری خارجہ سہیل محمود نے باہمی مشاورت کے ذریعے اور شفافیت کیساتھ سی پیک منصوبوں کو فروغ دینے کے لئے حکومت پاکستان ، تھنک ٹینکس ، اکیڈمیہ ، اور میڈیا کی جانب سےکی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے بالخصوص نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے پاکستان اور علاقائی معیشت پر سی پیک کے اثرات کے جامع اور معقول انداز میں تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے سی پیک منصوبوں میں تیسرے فریق کی شرکت کا خیرمقدم کریں گے۔اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ چین اور پاکستان سی پیک کی مثبت کردار کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔








