ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے مالی نظم و نسق اور کارکردگی میں نمایاں بہتری کی بدولت صرف دو برس میں 37 ارب روپے سے زائد کا مالیاتی ٹرن اراؤنڈ حاصل کر لیا۔
میپکو نے مالی نظم و نسق اور کارکردگی میں نمایاں بہتری کی بدولت صرف دو برس میں 37 ارب روپے سے زائد کا مالیاتی ٹرن اراؤنڈ حاصل کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے مالی نظم و نسق اور کارکردگی میں نمایاں بہتری کی بدولت صرف دو برس میں 37 ارب روپے سے زائد کا مالیاتی ٹرن اراؤنڈ حاصل کر لیا۔ مالی سال 2023-24 میں 36 ارب روپے کے خسارے سے دوچار کمپنی نے مالی سال 2025-26 کا اختتام 1.05 ارب روپے کے خالص منافع کے ساتھ کیا، جو ادارے کی مالی بحالی اور انتظامی اصلاحات کا اہم مظہر ہے۔ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیر پاور سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت اور اصلاحاتی پالیسیوں کے نتیجے میں وزارتِ توانائی نے پاکستان کی سب سے بڑی اور پہلی بجلی تقسیم کار کمپنی ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی مالی اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری کو یقینی بنایا ہے، یہ کامیابی کسی وقتی اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل، منظم اور پائیدار اصلاحاتی عمل کا ثمر ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اسی عرصے میں لائن لاسز 15.2 فیصد سے کم ہو کر 11.9 فیصد رہ گئے، جبکہ ریکوری کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار مؤثر بلنگ، بجلی چوری کی روک تھام اور صارفین کے اعتماد میں اضافے کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میپکو کی یہ کامیابی جامع اور مربوط اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے، جن میں روزمرہ کی مداخلت سے آزاد اور خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کا قیام، وزارت کی جانب سے مسلسل پالیسی رہنمائی اور مؤثر کارکردگی کی نگرانی، تقسیمی نظام کی آٹومیشن اور میٹرائزیشن، اور صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ شامل ہے۔ یہ اصلاحاتی ماڈل وقتی اور غیر مربوط مداخلت کی بجائے ادارہ جاتی اصلاحات، مؤثر طرزِ حکمرانی اور احتساب پر مبنی انتظامی نظام کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔وزارتِ توانائی کا مؤقف ہے کہ میپکو کی یہ کامیابی محض ایک منفرد مثال نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے۔ آزادانہ فیصلہ سازی ، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی پر مشتمل یہی اصلاحاتی ماڈل دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بھی نافذ ہے، جوکہ گردشی قرضے کے مسئلے پر قابو پانے اور پاور سیکٹر کو پائیدار مالی استحکام اور دیرپا ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا موجب بنے گا۔







