اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے چین کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں عوامی ترقی، جدید تعلیم اور نوجوانوں کی ہنرمندی کو مرکزی حیثیت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ پلاننگ کمیشن حکام کے مطابق سی پیک فیز ٹو کو محض انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے اب انسانی وسائل کی ترقی، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور جدت پر مبنی معیشت کے فروغ …
سی پیک فیز ٹو میں پاکستانی نوجوانوں کی ہنرمندی اور عوامی ترقی کو مرکزی حیثیت دینے کی تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے چین کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں عوامی ترقی، جدید تعلیم اور نوجوانوں کی ہنرمندی کو مرکزی حیثیت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ پلاننگ کمیشن حکام کے مطابق سی پیک فیز ٹو کو محض انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے اب انسانی وسائل کی ترقی، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور جدت پر مبنی معیشت کے فروغ کی سمت میں بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو قومی ترقی کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ اسی تناظر میں سی پیک فیز ٹو کے تحت نوجوانوں کو قومی ترقی کے سفر میں فعال شمولیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ دس سالوں میں 10 ہزار پاکستانی طلبہ کو چین کی 50 معروف یونیورسٹیوں میں نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں پی ایچ ڈی کے مواقع فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی معیشت کی بنیاد کو جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ذرائع کے مطابق اس پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت ، بگ ڈیٹا، روبوٹکس، گرین انرجی، بائیو ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خصوصی توجہ دی جائے گی، تاکہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ کر سکے۔مزید برآں، آئندہ دو دہائیوں میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل صلاحیتوں سے آراستہ کر کے ملک میں معاشی انقلاب لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے چین کے تعاون سے فنی و پیشہ ورانہ تربیتی مراکز، جدید تحقیقاتی ادارے اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن سنٹرز قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔حکام کے مطابق پاکستان کے نوجوان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ انہیں جدید تعلیم اور تربیت سے لیس کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سی پیک فیز ٹو اسی وژن کی تکمیل کا ذریعہ بنے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتوں کے دوران چین کے ہنرمندی پر مبنی فنی، تعلیمی اور تربیتی تعاون کے فروغ پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ چین نے پاکستان کے ساتھ اس شعبے میں قریبی اشتراکِ عمل جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات عوامی سطح پر مزید مضبوط ہوں اور ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچ سکیں۔








