اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ سی پیک کسی جماعت کا حکومت کا نہیں بلکہ قومی منصوبہ ہے، ماضی میں مغربی روٹ کو نظر انداز کر کے اس منصوبے کو متنازع بنایا گیا، سی پیک کے منصوبوں پر کام جاری ہے، بوستان سپیشل اکنامک زون کو منجمد کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ جمعہ کو …
سی پیک کسی جماعت کا حکومت کا نہیں قومی منصوبہ ہے، ماضی میں مغربی روٹ کو نظر انداز کر کے اس منصوبے کو متنازع بنایا گیا، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کاایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر عتیق شیخ کے سوال کا جواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ سی پیک کسی جماعت کا حکومت کا نہیں بلکہ قومی منصوبہ ہے، ماضی میں مغربی روٹ کو نظر انداز کر کے اس منصوبے کو متنازع بنایا گیا، سی پیک کے منصوبوں پر کام جاری ہے، بوستان سپیشل اکنامک زون کو منجمد کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر عتیق شیخ کے سوال کے جواب میں وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ سی پیک سے پسماندہ علاقوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہم دن رات کام کر رہے ہیں، سابق فاٹا اور بلوچستان پر ہماری خصوصی توجہ مرکوزہے۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سی پیک کسی حکومت یا جماعت کا نہیں بلکہ قومی منصوبہ ہے، ہم پہلے مغربی روٹ کے حق میں تھے لیکن اس وقت کی حکومت نے اسے نظر انداز کیا، سی پیک کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ سینیٹر کبیر محمد شاہی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بوستان سٹیل اکنامک زون 200 ایکڑ کا سی پیک کا منصوبہ ہے، ہمارے دل میں بلوچستان کے لئے بہت محبت ہے، ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں، بلوچستان عمران خان کے دل کے قریب ہے، بوستان سپیشل اکنامک زون کو سیز کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سینیٹر سیمی ایزدی اور دیگر ارکان کے سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ مہمند ضلع سمیت پسماندہ قبائلی علاقوں میں ترقی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔








