کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے )کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے مجموعی طور پر 23 کیسز منظور کر لیے گئے۔اتوار کو سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی (ڈی وی سی) کے گزشتہ چار اجلاسوں میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے 40 کیسز کا جائزہ لیا گیا
سی ڈی اے کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے مجموعی طور پر 23 کیسز منظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے )کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے مجموعی طور پر 23 کیسز منظور کر لیے گئے۔اتوار کو سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی (ڈی وی سی) کے گزشتہ چار اجلاسوں میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے 40 کیسز کا جائزہ لیا گیا۔کمرشل بلڈنگ پلان کے40 کیسز میں سے 8 کیسز ضروری دستاویزات اور تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث متعلقہ آرکیٹیکٹس اور سپانسرز نے اجلاس سے قبل ازخود واپس لے لیے۔ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے 32 کیسز میں سے 23 کی منظوری دے دی گئی، جبکہ بعض کیسز کو بنیادی پارکنگ،پیرامیٹرز اور ڈیزائن سے متعلق تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث ملتوی کیا گیا۔ ملتوی کیے گئے کیسز ضروری پارکنگ، بنیادی پیرامیٹرز اور ڈیزائن سے متعلق تقاضے مکمل کرنے کے بعد دوبارہ DVC کےسامنے پیش کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کی جانب سے آرکیٹیکٹس کو ایڈوائزری بھی جاری کی گئی تھی جبکہ کلائنٹس اورآرکیٹیکٹس کی عدم موجودگی کے باعث 5 کیسز پیش نہیں کیے جا سکے۔ڈی وی سی کے اجلاس 4 جون، 16 جون، 30 جولائی اور 20 اگست 2026 کو منعقد ہوئے۔ وزیراعظم، وزیر داخلہ اور چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایات کے مطابق بلڈنگ پلانز کی منظوری کا عمل اسلام آباد میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری عمل کو آسان بنانے کے عزم کا عکاس ہے، شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے سی ڈی اے بلڈنگ پلانز کی منظوری کے عمل کو مزید آسان اور سہل بنا رہا ہے۔ڈی وی سی کی جانب سے حتمی منظوری کا خط جاری کرتے وقت آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور مالک کا نام درج کیا جائے گا، جبکہ تعمیر کے دوران بھی ان تمام افراد کے نام سائٹ پر نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں گے، ڈیزائن میں کسی غیر قانونی تبدیلی کی صورت میں آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور مالک کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی جہاں منظوری کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے، وہیں آرکیٹیکٹس،کنسلٹنٹس اور مالکان پر نئی ذمہ داریاں بھی عائد کی جا رہی ہیں۔تمام ملتوی اور موخر کیسز کو مکمل دستاویزات کے ساتھ آئندہ DVC اجلاسوں میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔سی ڈی اے کا مقصد تعمیراتی شعبے سے متعلق تمام ریگولیٹری طریقہ کار کو بلا تاخیر آسان اور مؤثر بنانا ہے تاکہ دارالحکومت میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں اور شہر کی تعمیر و ترقی کو فروغ ملے۔ سی ڈی اے کی کوشش ہے کہ تمام زیر التوا کیسز ڈی وی سی کے سامنے لا کر جلد از جلد نمٹائے جائیں۔ اگر کسی شہری کا کیس ڈی وی سی میں پیش نہیں ہو رہا تو وہ ممبر پلاننگ یا چیئرمین آفس میں شکایت درج کرا سکتا ہے جبکہ اس مقصد کے لیے سی ڈی اے کا آن لائن پورٹل بھی دستیاب ہے۔ موصول ہونے والے تمام کیسز ڈی وی سی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔موجودہ بائی لاز میں موجود پیچیدگیوں کے باعث ملتوی ہونے والے کیسز کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں متعلقہ فارمیشنز کے افسران شامل ہوں گے۔ کمیٹی موجودہ بائی لاز میں موجود پیچیدگیوں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے گی اور پارکنگ، کمرشل لاز سمیت دیگر متعلقہ امور کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔شہری ڈی وی سی، پوزیشن سرٹیفکیٹس، اراضی یا دیگر متعلقہ مسائل کے حل کے لیے سی ڈی اے دفتر میں شکایات درج کرا سکتے ہیں جبکہ اپنی قیمتی آراء آن لائن پورٹل کےذریعے بھی فراہم کر سکتے ہیں۔سی ڈی اے نے موصول ہونے والی شکایات کے بروقت ازالے کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔







