پاکستان نے شام میں ادارہ جاتی و عسکری اصلاحات کو سراہتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بیرونی اقدامات بالخصوص اسرئیلی عسکری مداخلت شام میں اقتدار کی عبوری منتقلی کے نازک عمل کو پٹری سے اتار سکتی ہے
شام میں ادارہ جاتی و عسکری اصلاحات خوش آئند ہیں، اسرئیلی مداخلت اس عمل کو پٹری سے اتار سکتی ہے،پاکستانی مندوب

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔20ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے شام میں ادارہ جاتی و عسکری اصلاحات کو سراہتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بیرونی اقدامات بالخصوص اسرئیلی عسکری مداخلت شام میں اقتدار کی عبوری منتقلی کے نازک عمل کو پٹری سے اتار سکتی ہے۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقبل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل میں شام کی صورتحال بارے خصوصی بحث کے دوران کہی ۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل عسکری سرگرمیاں اور شامی سرزمین پر موجودگی اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ شام کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے،ہم شامی سرزمین میں حالیہ اسرائیلی دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہیں بشمول کوہِ حرمون میں کی جانے والی کارروائیاں، جو شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسرائیل کو شامی گولان اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ شام نے اقتدار کی منتقلی کے حوالہ سے انتہائی مختصر عرصے میں نمایاں پیش رفت کی ہے،جو عمل گہری تبدیلی کے لمحے کے طور پر شروع ہوا تھا وہ اب تیزی سے قومی استحکام کے عمل میں ڈھل رہا ہے، ریاستی اداروں کی تعمیرِ نو، شام کے اتحاد کی بحالی، خطے اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے ساتھ دوبارہ روابط کا قیام اور برسوں کے تباہ کن تنازعے کے بعد بحالی کی بنیادیں استوار کرنا خوش آئند ہے۔ عثمان جدون نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ بات چیت، مفاہمت اور باہمی سمجھ بوجھ کے ذریعے حل طلب معاملات کو نمٹانے کا سلسلہ جاری رکھیں ۔ پاکستانی مندوب نے دہشت گرد گروہ بشمول غیر ملکی دہشت گردوں اور جنگجوئوں کو شام کے لئے بدستور خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف لڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شام کو بین الاقوامی قانون کے مطابق دہشت گردی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے درکار بین الاقوامی تعاون اور صلاحیت سازی میں مدد ملنی چاہیے۔ پاکستانی سفیر نے امید ظاہر کی کہ خلیجی خطے اور یورپی یونین سمیت مختلف شراکت داروں و ممالک کی بڑھتی سرمایہ کاری ، معاشی روابط، روزگار کی بحالی اور ترقی کی بنیادیں استوار کرنے میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان شامی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ایسے عمل کی حمایت جاری رکھے گا جس کی قیادت اور ملکیت خود شامیوں کے پاس ہو اور جو ایک پرامن، متحد، خودمختار اور خوشحال شام کی جانب لے جائے۔بحث کے آغاز میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ دسمبر 2024 کے بعد سے بے گھر ہونے والے 20 لاکھ سے زیادہ شامیوں اور 18 لاکھ پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی "واپسی کی تاریخی لہر” اور "امید کی بڑی علامت”ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ بہتر سکیورٹی، نرم پڑتی پابندیاں اور لچکدار (مضبوط) کمیونٹیز بحالی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کر رہی ہیں، تاہم بڑے چیلنجز بدستور موجود ہیں،ابھی 55 لاکھ سے زیادہ بے گھر شامی اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹے ہیں جن میں کیمپوں میں مقیم تقریباً 8 لاکھ افراد شامل ہیں اور ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔







