شام میں معزول صدر بشارالاسد اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں، 48 افراد ہلاک

دمشق۔7مارچ (اے پی پی):برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شام میں معزول صدر بشارالاسد کے حامیوں اور حکومتی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 48 افراد مارے گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں بحیرۂ روم کے ساحلی صوبے الاذقیہ میں ہوئیں، جو معزول صدر بشارالاسد کی علوی اقلیت کا مرکز ہے، جسے ان کے دور حکومت میں حمایت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ آبزرویٹری نےکہا کہ …

دمشق۔7مارچ (اے پی پی):برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شام میں معزول صدر بشارالاسد کے حامیوں اور حکومتی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 48 افراد مارے گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں بحیرۂ روم کے ساحلی صوبے الاذقیہ میں ہوئیں، جو معزول صدر بشارالاسد کی علوی اقلیت کا مرکز ہے، جسے ان کے دور حکومت میں حمایت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

آبزرویٹری نےکہا کہ معزول صدر بشار الاسد کے حامی جنگجوؤں نے 16 سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا، جبکہ معزول صدر بشارالاسد کے 28 وفادارجنگجو اور چار شہری بھی مارے گئے۔الاذقیہ کے سکیورٹی اہلکار مصطفیٰ کنیفاتی نے کہا کہ منصوبہ بندی کے ساتھ بشار الاسد کے حامیوں کے کئی گروپوں نے جبلہ کے علاقے میں ہمارے اہلکاروں اور ہماری چوکیوں پر حملہ کیا۔

انہوں نےکہا کہ حملوں کے نتیجے میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے،تاہم انہوں نے اموات کی تعداد نہیں بتائی۔مصطفیٰ کنیفاتی نے کہا کہ سکیورٹی فورسزان کو ختم کرنے کے لیے کام کریں گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم خطے میں استحکام بحال کریں گے اور اپنے لوگوں کی املاک کی حفاظت کریں گے۔