اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں، برف باری اور برفانی تودوں سے متاثرہ علاقوں میں 1957 خیمے، 1250 کمبل، 250 ترپالیں، 12 ٹن راشن، 2250 پلاسٹک چٹائیاں، 150 شیٹس، 550 سولر لائٹس، 100 کچن سیٹس، 150 گدے اور گرم کپڑوں سمیت ضروری امدادی سامان فراہم کردیا گیا ہے۔ شدید بارشوں اور برف باری کے باعث رونما ہونے …
شدید بارشوں، برف باری اور برفانی تودوں سے متاثرہ علاقوں میں خیمے، کمبل، ترپالیں، راشن اور گرم کپڑوں سمیت ضروری امدادی سامان فراہم کردیا گیا ہے، این ڈی ایم اے
اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں، برف باری اور برفانی تودوں سے متاثرہ علاقوں میں 1957 خیمے، 1250 کمبل، 250 ترپالیں، 12 ٹن راشن، 2250 پلاسٹک چٹائیاں، 150 شیٹس، 550 سولر لائٹس، 100 کچن سیٹس، 150 گدے اور گرم کپڑوں سمیت ضروری امدادی سامان فراہم کردیا گیا ہے۔ شدید بارشوں اور برف باری کے باعث رونما ہونے والے حادثات میں مجموعی طور پر 100 افراد جاں بحق اور 90 زخمی ہوئے جبکہ متاثرہ علاقوں میں اہم شاہراہیں بند ہو گئیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بدھ کو متاثرین کو فراہم کردہ امدادی اشیاءکی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں فراہم کردہ امدادی سامان میں 250 فوری طبی امداد کی کٹس، 50 لالٹین، 60 ٹن نمک اور 800 لٹر پانی کا صاف پانی بھی شامل ہے۔ نیلم ویلی میں امدادی اشیاءکے تین مزید ہیلی کاپٹر بھی بھیجے گئے۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں شدید برف باری ہوئی جس سے قیمتی جانی اور املاک کا نقصان ہوا۔ اسی طرح نیلم ویلی میں مختلف مقامات پر برفانی تودے گرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے جن کے نتیجہ میں آزاد جموں و کشمیر میں 76 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 53 زخمی ہوئے، اسی طرح 198 مقامات کو نقصان بھی پہنچا۔ آزاد جموں و کشمیر کے بعد سب سے زیادہ نقصان بلوچستان میں ہوا جہاں 20 افراد جاں بحق اور 23 دیگر زخمی ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے جبکہ گلگت بلتستان میں 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی ہوئے اور تین مکانات کو نقصان پہنچا۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارشوں اور برف باری کی وجہ سے دو درجن سے زائد شاہراہیں اور ہائی ویز بند ہوئیں۔ خیبرپختونخوا میں الپوری اور خوازہ خیلہ روڈ، بحرین تا کالام روڈ، مالم جبہ روڈ، لواری ٹاپ روڈ، کیلاش ویلی روڈ، دروش روڈ، چترال تا گرم چشمہ روڈ، چترال۔بونی روڈ، چترال سٹی روڈ، دیر بالا میں مقامی سڑکیں اور ضلع کوہستان قراقرم ہائی وے بند ہوئیں۔ بلوچستان میں قلعہ عبداﷲ کی رابطہ سڑکیں اور این۔50 روڈ بھی شدید برف باری سے بند ہوئی۔ آزاد جموں و کشمیر کی نیلم ویلی میں شاردہ روڈ، باغ روڈ، لیپہ ویلی روڈ، محمود گلی تا عباسپور روڈ اور حاجی پیر تا علی آباد روڈ شدید برف باری اور برفانی تودوں کی وجہ سے بند ہو گئیں۔ گلگت بلتستان میں گلگت۔استور روڈ، کارچک روڈ اور تنگیر روڈ بند ہوئیں۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شدید برف باری، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کی وجہ سے بند ہونے والی شاہراہیں کھولنے کیلئے کام جاری ہے۔ پی ڈی ایم ایز، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور دیگر متعلقہ کنسٹرکشن اینڈ ورکس کے محکمے اس حوالہ سے سرگرم عمل ہیں۔









