شدید تھکاوٹ سے مردوں میں دل کے دورہ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں

اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):شدید تھکاوٹ سے مردوں میں دل کے دورہ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔روس کے انسٹیٹوٹ آف سائٹولوجی اینڈ جینیٹکس کی تحقیق کے مطابق ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ) اکثر جان لیواثابت ہوتا ہے اور اگر جان بچ بھی جائے تو اس کے بعد بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ دوسرے اٹیک کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔واضح رہے کہ ہارٹ اٹیک اچانک کسی شخص …

اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):شدید تھکاوٹ سے مردوں میں دل کے دورہ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔روس کے انسٹیٹوٹ آف سائٹولوجی اینڈ جینیٹکس کی تحقیق کے مطابق ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ) اکثر جان لیواثابت ہوتا ہے اور اگر جان بچ بھی جائے تو اس کے بعد بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ دوسرے اٹیک کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔واضح رہے کہ ہارٹ اٹیک اچانک کسی شخص کا شکار کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اکثرموت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق شدید تھکاوٹ کا شکار مردوں میں ہارٹ اٹیک کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔مائیلو کارڈیل انفارکشن ( دل میں خون کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہونا) تھکاوٹ کا سبب بنتا ہے اور غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ اور رنڈوے ہوجانے والے مردوں میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شدید تھکاوٹ، بے دلی اور بڑھتا ہوا چڑچڑا پن اس کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔

محققین نے کہا ہے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ زیادہ تر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کے بڑھتے مسائل کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔دوران تحقیق شدید ترین تھکاوٹ اور مائیلو کارڈیل انفارکشن کا تعلق ایسے مردوں میں بھی پایا گیا جن کوماضی میں دل کی کسی قسم کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔

واضح رہے کہ تحقیق میں 25 سے 64 سال کی عمر کے 657 مردوں کے اعداوشمار کا جائزہ لیا گیااوران کی 14 سال تک مسلسل مانیٹرنگ کی گئی۔نتائج کے مطابق ان میں سے 67 فیصدیعنی دوتہائی مردوں کو تھکاوٹ کا سامنا تھا جن میں سے 52 فیصد میں اس کی سطح نارمل جبکہ 15 فیصد میں بہت زیادہ تھی۔

محققین نے کہاکہ تھکاوٹ کا سامنا کرنے والے 74 فیصد مردوں کو ہائی بلڈ پریشر کا مرض لاحق تھا۔مزید برآں تحقیق میں شدید تھکاوٹ اور ہارٹ اٹیک کے خطرہ میں تعلق کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تھکاوٹ کے شکار افراد میں 10 سال میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 2.25 گنا جبکہ 14 سال کے دوران 2.1 گناتک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح تحقیق میں سماجی عناصر جیسا کہ عمر، تعلیم، پیشہ اور ازدواجی حیثیت کو شامل کیا گیا تو تھکاوٹ اور ہارٹ اٹیک کے خطرہ میں نمایاں تعلق بھی پایا گیا۔تحقیق کے مطابق غیر شادی شدہ ، طلاق یافتہ اور رنڈوے افراد میں یہ خطرہ بالترتیب 3.7، 4.7 اور 7 گنا تک زیادہ ہوتا ہے۔محققین نے کہا ہے کہ تنہا رہنے کے نتیجہ میں سماجی تعاون کم ہوتا ہے جو امراض قلب اور فالج کے خطرات بڑھانے والے عناصر میں شامل ہے۔