اقوام متحدہ کے اعلیٰ موسمیاتی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ انسانوں کا فوسل فیولز پر انحصار موسمیاتی آفات کو خطرناک حد تک سنگین بنا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر میں گرمی کی لہریں اورجنگلا ت میں لگنے والی آگ تباہ کن صورتحال اختیار کر رہی ہیں۔
شدید گرمی کی لہریں اور جنگلات میں لگنے والی آگ تباہ کن صورتحال اختیار کر رہی ہیں، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔30جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اعلیٰ موسمیاتی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ انسانوں کا فوسل فیولز پر انحصار موسمیاتی آفات کو خطرناک حد تک سنگین بنا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر میں گرمی کی لہریں اورجنگلا ت میں لگنے والی آگ تباہ کن صورتحال اختیار کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے ایگزیکٹو سیکرٹر ی سائمن سٹیل نے اپنے بیان میں کہا کہ موسمیاتی خطرے کی گھنٹی ہر سمت سے بج رہی ہے” اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث اس بحران کے انسانی اور معاشی نقصانات قومی ہنگامی صورتحال کی سطح تک پہنچ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، یورپ کے مختلف علاقوں، خصوصاً فرانس اور اسپین میں جنگلات کی آگ بھڑک رہی ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر انخلا کرنا پڑ رہا ہے اور علاقائی و قومی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال شدید گرمی کی لہروں کے بعد پیدا ہوئی ہے، جنہوں نے وسیع علاقوں کو خشک کر دیا ہے۔شمالی افریقہ میں درجہ حرارت تقریباً 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، جس سے انسانی زندگی اور روزگار کو شدید خطرات لاحق ہیں، جبکہ ہسپتالوں اور بجلی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔چلی میں شدید طوفانوں کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جبکہ جاپان میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں اور وہاں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا طویل ترین سلسلہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
سائمن سٹیل نے کہا کہ یہ بڑھتی ہوئی آفات اب دنیا بھر کے اربوں انسانوں کے لیے کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں، کیونکہ دنیا فوسل فیولز سے صاف توانائی کی جانب منتقلی میں مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر پا رہی اور جنگلات کے تحفظ کے لیے بھی کافی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ سائنسی شواہد واضح ہیں کہ کوئلہ، تیل اور گیس کے بڑے پیمانے پر استعمال کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں طویل دورانیے کی گرمی کی لہریں، شدید سیلاب اور طاقتور طوفان زیادہ بار، زیادہ شدت سے اور زیادہ مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے عہدیدار نے کہا کہ حل بھی واضح ہے: کوئلے، تیل اور گیس پر انحصار کو تیزی سے کم کرنا، قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا اور ان علاقوں کے لوگوں کا تحفظ کرنا جہاں موسمیاتی اثرات سب سے زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کمزور ممالک کو فوری اور بڑے پیمانے پر مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ تباہی سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کر سکیں۔اقوام متحدہ کے مطابق، جنگلات میں لگنے والی آگ کا دھواں بھی ایک بڑھتا ہوا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
2023 میں کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ سے اٹھنے والا خطرناک دھواں شمال مشرقی امریکہ اور بحر اوقیانوس کے پار تک پہنچ گیا تھا، جس سے صحت کے مسائل پیدا ہوئے تھے۔رواں موسم گرما میں بھی کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ کے باعث نیویارک سمیت کئی علاقوں میں نارنجی رنگ کی دھند چھا گئی، جس کے نتیجے میں فضائی معیار سے متعلق انتباہات جاری کیے گئے۔عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او ) کے مطابق،جنگلات کی آگ کا دھواں ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر سکتا ہے اور سرحدوں، سمندروں اور براعظموں کو عبور کر سکتا ہے، اس لیے اس کی نگرانی، پیش گوئی اور بروقت خبردار کرنا انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ڈبلیو ایم او نے کہا کہ قابل اعتماد نگرانی، موسمیاتی معلومات کا تبادلہ، سرحد پار تعاون اور ابتدائی انتباہی نظام انسانی جانوں، روزگار اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔اقوام متحدہ کے سب کے لیے ابتدائی انتباہ اقدام کے تحت عالمی ادارے آگ کے موسم سے متعلق خدمات کو بہتر بنانے، مشترکہ نظام قائم کرنے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔








