سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جائیداد کا ایک شریک مالک (Co-owner) بھی دیگر شریک مالکان کی نمائندگی کرتے ہوئے کرایہ دار کی بے دخلی کے لیے درخواست دائر کرنے کا قانونی اختیار رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام شریک مالکان کو مقدمے میں فریق بنانا ضروری نہیں
شریک مالک بھی دیگر مالکان کی نمائندگی کرتے ہوئے کرایہ دار کی بے دخلی کی درخواست دائر کر سکتا ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جائیداد کا ایک شریک مالک (Co-owner) بھی دیگر شریک مالکان کی نمائندگی کرتے ہوئے کرایہ دار کی بے دخلی کے لیے درخواست دائر کرنے کا قانونی اختیار رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام شریک مالکان کو مقدمے میں فریق بنانا ضروری نہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ کے گل پلازہ، ہوٹل پاکیزہ میں واقع دکانوں سے متعلق کرایہ داری تنازع پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کرایہ داروں کی اپیلوں کی اجازت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شریک مالکان کے درمیان تقسیمِ جائیداد یا ملکیت سے متعلق داخلی تنازعات کرایہ داروں کے لیے بے دخلی سے بچنے کا جواز نہیں بن سکتے۔
عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں شریک مالک بھی ’’لینڈ لارڈ‘‘ کے دائرہ تعریف میں آتا ہے اور وہ دیگر شریک مالکان کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہوئے بے دخلی کی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔فیصلے کے مطابق سید شمس الدین نے گل پلازہ، ہوٹل پاکیزہ، عبدالستار روڈ کوئٹہ میں واقع متعدد دکانوں سے کرایہ داروں کی بے دخلی کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں۔ رینٹ کنٹرولر نے ذاتی اور حقیقی ضرورت (Bona Fide Personal Need) کی بنیاد پر درخواستیں منظور کرتے ہوئے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جسے بعد ازاں بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود رجسٹرڈ سیل ڈیڈ اور کرایہ کی رسیدوں سے مالک اور کرایہ دار کے تعلق کا ثبوت ملتا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ ذاتی ضرورت صرف مالک کی اپنی ضرورت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس میں اس کے بچوں، اہل خانہ اور دیگر شریک مالکان کی جائز کاروباری ضروریات بھی شامل ہوتی ہیں۔عدالت نے کرایہ داروں کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ پہلے خالی کرائی گئی بعض دکانیں ذاتی استعمال کے بجائے دوبارہ کرائے پر دی گئی تھیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مالک اپنی ضرورت کا خود بہترین جج ہوتا ہے اور یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے کہ کون سی جائیداد یا دکان اس کی ضرورت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ رینٹ کنٹرولر اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے شواہد اور قانون کے درست اطلاق پر مبنی ہیں، جن میں کسی قسم کی بدنیتی، غیر قانونی کارروائی یا شواہد کے غلط جائزے کا عنصر موجود نہیں۔ عدالت نے تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔








