اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے شعبہ صحت عامہ میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کے ممتاز پبلک ہیلتھ ماہر اور وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان کو گلوبل فنڈ پاکستان کی اوور سائیٹ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کر …
شعبہ صحت عامہ میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کیلئے اہم پیشرفت، ڈاکٹر شہزاد علی خان گلوبل فنڈ اوور سائیٹ کمیٹی کے چیئرمین منتخب
اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے شعبہ صحت عامہ میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کے ممتاز پبلک ہیلتھ ماہر اور وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان کو گلوبل فنڈ پاکستان کی اوور سائیٹ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔
سی سی ایم سیکرٹریٹ میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قیادت پر اراکین کے مکمل اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ آئندہ دو سال کے لیے اس اہم عہدے پر خدمات سرانجام دیں گے۔ گلوبل فنڈ کی یہ کمیٹی پاکستان میں ایچ آئی وی ، ٹی بی اور ملیریا جیسے مہلک امراض کے خاتمے کے لیے جاری اربوں روپے کے منصوبوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کمیٹی کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عالمی فنڈز کا استعمال انتہائی شفافیت اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ کیا جائے۔ کمیٹی پروگرامز کی مالی نگرانی، خریداری کے عمل کی جانچ پڑتال اور ممکنہ رکاوٹوں یا قوانین کی خلاف ورزی پر فوری اصلاحی اقدامات تجویز کرنے کا مینڈیٹ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر شہزاد علی خان کی تعیناتی کو طبی حلقوں میں "صحت کے شعبے کے لیے نیک شگون” قرار دیا جا رہا ہے۔
پبلک ہیلتھ سیکٹر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پروفیسر شہزاد علی خان ایک کہنہ مشق اور دیانتدار شخص ہیں، جن کی قیادت میں گلوبل فنڈ کے منصوبوں میں جوابدہی کا نظام مضبوط ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی سربراہی میں بیماریوں کے کنٹرول کے قومی پروگراموں میں نئی روح پھونکی جائے گی اور فنڈز کے ضیاع کو روک کر انہیں مریضوں کی بہتری کے لیے حقیقی معنوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔









