وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک سے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی افسر اوڈی اینجیلو کی ملاقات
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک سے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی افسر اوڈی اینجیلو کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نےپاکستان کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہروں اور غریب و کمزور آبادیوں کے مسائل کے حل کے لیے طویل طریقہ کار اور ترقیاتی اصطلاحات کے بجائے عملی، کمیونٹی پر مبنی اور دیرپا اقدامات پر زور دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کوبولیویا سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی افسر اوڈی اینجیلو سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں شہری ترقی،موسمیاتی لچک، پانی و نکاسی آب، سیلاب سے نمٹنے اور کمزور آبادیوں کے لیے عملی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور بین الاقوامی تعاون کا حتمی مقصد زمینی سطح پر عملی کام اور عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں موثر اور نتیجہ خیز کام چاہیے۔ موثر پالیسی تجاویز لائیں، ہم تعاون کریں گے اور اسے عملی جامہ پہنائیں گے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ غیر ضروری تاخیر اور رکاوٹوں کو کم کرکے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔وفاقی وزیر نےکہا کہ پاکستان کو مزیدپیچیدہ اصطلاحات کے بجائے عملی حل درکار ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں عوام کو آلودہ پانی، سیلاب، ناقص نکاسی آب اور بنیادی شہری سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک منصوبہ بہت سے لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے تشکیل دیے جائیں جو کمیونٹی کی شمولیت سے مکمل ہوں، خود کفیل ہوں اور کامیاب ہونے کی صورت میں ملک کے دیگر علاقوں میں بھی نافذ کیے جا سکیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مختلف اداروں اورترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے ماضی میں اچھا کام کیا گیا ہے تاہم یہ اقدامات اکثر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کےمجموعی اثرات کو موثر انداز میں سامنے نہیں لایا جا سکا۔انہوں نے کہا کہ کامیاب منصوبوں کی نشاندہی، ان کے نتائج کو اجاگر اور انہیں وسیع پیمانے پر نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ اقدامات آگے چل کر قومی ایجنڈے کا حصہ بن سکیں۔وفاقی وزیر نے آلودہ پانی والے علاقوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس،سیلاب سے تحفظ اور موسمیاتی لچک کے منصوبوں سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے نیشنل اربن سٹریٹیجی کو پالیسی سے عملی اقدامات میں تیزی سے منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ وفاقی و صوبائی اداروں، اقوام متحدہ کے اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کے درمیان موثر رابطہ ضروری ہے۔انہوں نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے بزنس اور انوویشن آئیڈیاز مقابلہ شروع کرنے کی تجویز بھی دی جس کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، عوامی تحفظ، کمزورشہری علاقوں، سیلاب سے نمٹنے، ٹیکنالوجی، ایجادات، پانی و نکاسی آب اور گرین انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں میں تخلیقی حل تلاش کیے جا سکیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو قومی مسائل کے عملی حل کے لیے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ترقیاتی وسائل کا فائدہ براہ راست کمیونٹیز تک پہنچنا چاہیے اور مقامی آبادی کو منصوبوں کی تشکیل اور انہیں پائیدار بنانے کے عمل میں موثر طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں صلاحیت، خیالات اور انسانی وسائل کی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ خیالات کو تیزی سے عمل میں، کامیاب منصوبوں کو قابل توسیع ماڈلز میں اور پالیسی مباحث کو عوامی مسائل کے عملی حل میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کو جانچنے کا اصل پیمانہ سادہ اور واضح ہونا چاہیے، جس میں تاخیر میں کمی، عملی اقدامات میں اضافہ اور کمزور و محروم طبقات کی زندگیوں میں حقیقی اور مثبت بہتری کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔








