پاکستان اپنی خودمختاری ،سندھ طاس کے اہم آبی وسائل سمیت اپنے حقوق اور قومی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا،پاکستانی سفیر

ایران میں پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی نے قوم کی خدمت میں قربانیاں دینے والی پاکستان کی مسلح افواج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں گزشتہ شب پاکستان ہائوس میں یومِ دفاع و شہدا کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد سازی کو بہترین ذرائع سمجھتا ہے۔

تہران ۔7ستمبر (اے پی پی):ایران میں پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی نے قوم کی خدمت میں قربانیاں دینے والی پاکستان کی مسلح افواج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں گزشتہ شب پاکستان ہائوس میں یومِ دفاع و شہدا کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد سازی کو بہترین ذرائع سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور سندھ طاس کے اہم آبی وسائل سمیت اپنے حقوق اور قومی مفادات کا ہر جائز ذریعے سے تحفظ جاری رکھے گا۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ قومی سلامتی کا تصور صرف روایتی سکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ اس میں معاشی مضبوطی، سماجی ترقی، تکنیکی صلاحیت اور توانائی، خوراک، پانی اور صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ریاستی صلاحیت بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسا ملک تعمیر کیا جائے جو نہ صرف محفوظ اور خوشحال ہو بلکہ اتنا پراعتماد بھی ہو کہ تصادم اور جنگ کی بجائے امن اور مذاکرات کا انتخاب کرے۔ پاکستانی سفیر نے تقریب کے مہمانِ خصوصی، ایران کے نائب وزیر دفاع اور وزارتِ دفاع و مسلح افواج کی لاجسٹکس کے شعبے میں ڈائریکٹر جنرل برائے بین الاقوامی تعلقات بریگیڈیئر جنرل سید حمزہ غلنداری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شرکت پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے رواں سال کے آغاز سے اپنے تعلقات میں ایک نیا باب شروع کیا ہے۔ دونوں ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس انتہائی اہم تعلق کو مضبوط اور وسیع کرنے میں مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے سفارتخانے کے ڈیفنس اینڈ آرمی اتاشی بریگیڈیئر ناصر عزیز کھٹک نے یومِ دفاع و شہدا کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ملک کے خلاف مختلف جارحانہ فوجی کارروائیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بہادر فوجیوں کی بے لوث قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر ہماری تاریخ کا ایک اہم دن ہے جب قوم متحد ہو کر ایک عددی طور پر برتر دشمن کی جارحانہ پیش قدمی کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئی۔

اس موقع پر انہوں نےبھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کو بھی یاد کرنے پر زور دیا، جو کئی دہائیوں سے ناانصافی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مہمانِ خصوصی بریگیڈیئر جنرل سید حمزہ غلنداری نے پاکستان کو یومِ دفاع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور ایران کی مسلح افواج کے درمیان قریبی تعلقات اور تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا عزم ہے کہ مشترکہ سرحد کے دونوں جانب مکمل سکیورٹی قائم کی جائے اور اسے دوستی اور خوشحالی کی سرحد میں تبدیل کیا جائے۔

اس موقع پر پاکستان کی عسکری تاریخ پر مبنی ایک نمائش بھی منعقد کی گئی۔ اس میں بعد از شہادت پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر حاصل کرنے والے بہادر فوجیوں کے پورٹریٹس، پاک فضائیہ کے طیاروں کے ماڈلز اور دیگر فوجی سازوسامان و ہتھیاروں کی نمائش کی گئی۔ تقریب میں ایرانی معززین، اعلیٰ سول و عسکری حکام، سفارتی برادری کے ارکان اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب میں یومِ دفاع و شہدا کے حوالےسے کیک کاٹا گیا اور مہمانوں کی پاکستانی روایتی کھانوں سے تواضع بھی کی گئی۔