اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھرکو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سر فہرست موسمیاتی تبدیلی ہے۔ہمارا ملک اگرچہ ماحولیاتی آلودگی کا حصہ نہیں ہے مگر ان مسائل سے دو چار ہونے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے، جس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا …
شمالی علاقی جات کے حکومتی اداروں اور عوام کی تکنیکی صلاحیت کو مستحکم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ملک امین اسلم
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھرکو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سر فہرست موسمیاتی تبدیلی ہے۔ہمارا ملک اگرچہ ماحولیاتی آلودگی کا حصہ نہیں ہے مگر ان مسائل سے دو چار ہونے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے، جس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی عوام کو بہت سے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔تاہم، اس امر میں شمالی علاقہ جات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیںجبکہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال کو مقابلتاً ماحولیاتی مسائل کا سامنا باقی تمام اضلاع سے زیادہ ہے اور اس مسئلہ کی وجہ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ہے۔پاکستان کے شمال میں حکومتی اداروں اور مقامی عوام کی تکنیکی صلاحیت کو مستحکم کرنا اور ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ کے خطرات کے بارے میں عوامی فہم کو بڑھانا ہے۔بدھ کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ چترال میں یونیورسٹی کے طلباء کو بھی اس مسئلہ سے متعلق آگاہی دینے کے لیے خصوصی ورت شاپس کا اہتمام کیا جا رہا ہے تا کہ مقامی لوگوں کو زیا دہ سے زیادہ معلومات دے کر ان آفات سے محفو ظ رکھا جا سکےاور ساتھ ہی ساتھ ایجوکیٹ بھی کیا جائے۔ معاومن خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کےاشتراک سے شروع کیے گئے گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ پروجیکٹ کے تحت متعلقہ صوبوں کو گلیشیئرپگھلنے اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے آلات فراہم کیے جائیں گے اور ان کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ کی تقریباً 24 وادیوں میں 40 گلیشیئرز کی مانیٹرنگ کے لیے ان پر آلات نصب کیے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے علاوہ خیبر پختونخواہ میں بھی مقامی لوگوں کی معلومات میں اضافہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہےتا کہ وہ وقت سے پہلے خطرہ بھانپ کر اپنی حفاظت یقینی بنا سکیں۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ یہ محض ہماری کوششوں کا ایک حصہ ہے، اس کے علاوہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام اور پروٹیکٹیڈ ایریا اینیشی ایٹیو، جو وزیرِ اعظم کے ویژن کا اہم حصہ ہیں ، کے ذریعے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کو محفوظ کر کے ہمیں نا گہانی آفات سے بچنے کا بھی راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ ملک امین اسلم نے بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کے علاوہ ، مقامی آبادی کا ذریعہ معاش بھی گلیشیئرز کے پگھلنےکے باعث خطرات سے دوچارہے اور یہ بھی متوقع ہے کہ ملک کے شمالی حصوں میں اوسط درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، اس پروگرام کے تحت مقامی زندگی اور معاش کو بھی مساوی اہمیت دی گئی ہے۔ان مقاصد کے حصول کےلیےمقامی سطح کے اداروں (گلگت بلتستان اور چترال کے علاقوں کے محکمہ زراعت ، لائیو اسٹاک اور جنگلات) کی صلاحیتوں کو بڑھانا شامل ہے۔









