اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):صدرِمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج ہم سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کی 47 ویں برسی منا رہے ہیں، جن کی زندگی 4 اپریل 1979 کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا دور میں چلائے گئے ایک مقدمے کے بعد ناحق ختم کردی گئی۔ ایوانِ صدر کے پریس وِنگ کے مطابق صدرِ مملکت نے …
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایسی پالیسیوں اور اداروں کی بنیاد رکھی جنہوں نے پاکستان کی سٹریٹجک سمت اور قومی سوچ کو شکل دی، صدرِمملکت آصف علی زرداری کا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):صدرِمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج ہم سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کی 47 ویں برسی منا رہے ہیں، جن کی زندگی 4 اپریل 1979 کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا دور میں چلائے گئے ایک مقدمے کے بعد ناحق ختم کردی گئی۔ ایوانِ صدر کے پریس وِنگ کے مطابق صدرِ مملکت نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی (4 اپریل 2026) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک مرکزی مقام رکھتے ہیں، 1971 کے بعد کے مشکل دور میں ان کی قیادت نے قومی اعتماد کو بحال کرنے اور ملک کو ایک نئے آئینی راستے پر ڈالنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین کی منظوری، جو آج بھی ہمارے پارلیمانی نظام کی رہنمائی کررہا ہے، اس دور کی سب سے پائیدار کامیابیوں میں سے ایک ہے، ان کی حکومت نے ایسی پالیسیوں اور اداروں کی بنیاد بھی رکھی جنہوں نے آنے والے برسوں میں پاکستان کی سٹریٹجک سمت اور قومی سوچ کو شکل دی۔ صدرِمملکت نے کہا کہ تقریباً نصف صدی بعد ان کی غیر منصفانہ، غیر قانونی اور غیر آئینی پھانسی کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے 6 مارچ 2024 کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کا حق نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ قانونی کارروائی نے ”منصفانہ ٹرائل اور ضابطہ قانون کی ہر جھلک کو ختم کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ ایک بے گناہ شخص کو جلد بازی میں تختہ دار تک پہنچا دیا گیا“۔
صدرِ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عدالت کی رائے میں منصفانہ طریقہ کار سے کئی سنگین انحرافات کی نشاندہی کی گئی، قتل کی تفتیش مئی 1976 میں باضابطہ طور پر بند کردی گئی تھی کیونکہ پولیس اور تحقیقاتی ادارے ملزمان کا تعین کرنے میں ناکام رہے تھے تاہم 5 جولائی 1977 کے فوراً بعد جب جنرل ضیاءالحق نے مارشل لا کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹا، کیس کو بغیر قانونی اجازت کے دوبارہ کھول دیا گیا، اس مقدمے کو غیر معمولی طریقے سے لاہور ہائی کورٹ منتقل کیا گیا، بغیر ملزم کو اطلاع دیئے جس سے اسے ”ایک اپیل کے حق“ سے محروم کردیا گیا اور اہم قانونی تحفظات کو غیر موثر بنادیا گیا جن میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 376 کے تحت یہ لازمی شرط بھی شامل تھی کہ ہر سزائے موت کی توثیق ہائی کورٹ کرے۔ صدر مملکت نے کہا کہ عدالت نے نوٹ کیا کہ اس شق کو ”صرف ایک بار نظر انداز کیا گیا اور وہ یہی مقدمہ تھا“۔ انہوں نے کہا کہ 1979 میں ان کی پھانسی نے پاکستان سے باہر بھی تشویش کو جنم دیا، جہاں کئی عالمی رہنماؤں اور مبصرین نے مقدمے اور سزا کے حالات پر بے چینی کا اظہار کیا۔ یوں یہ واقعہ نہ صرف پاکستان کی داخلی سیاسی تاریخ میں بلکہ انصاف، قانون اور سیاسی اختیار سے متعلق عالمی مباحث میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف اور ضابطہ قانون محض نظریاتی اصول نہیں ہیں، ان کی موجودگی یا عدم موجودگی شہریوں کی روزمرہ زندگی میں محسوس کی جاتی ہے، چاہے وہ عدالتوں، عوامی دفاتر، کام کی جگہوں یا سکولوں میں ہوں۔
جب ادارے منصفانہ اور قانون کے مطابق کام کرتے ہیں تو شہریوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کے حقوق محفوظ رہیں گے لیکن جب یہ معیار کمزور پڑتے ہیں تو اس کے اثرات سب سے زیادہ عام لوگوں پر پڑتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئیں ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جرات اور قربانی کو بھی یاد کریں جنہوں نے اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر سیاسی جبر، قید و بند اور جلاوطنی کے دور میں اس جدوجہد کو آگے بڑھایا، جمہوری مزاحمت اور مسلسل جدوجہد خصوصاً تحریکِ بحالیِ جمہوریت کے ذریعے انہوں نے پاکستان میں آئینی نظام کی بحالی کی کوشش جاری رکھی اور بالآخر جمہوری اقدار کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ بطور قوم ہمیں اپنی تاریخ کے اس باب سے واضح اسباق حاصل کرنے چاہئیں، ہمارے اداروں پر یہ مستقل ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، قانونی تقاضوں کا تحفظ کریں اور انصاف کی فراہمی کو غیر جانبدار اور منصفانہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول ہماری جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد کےلئے ناگزیر ہیں۔








