صابری سسٹرز اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان کی ایمبیسڈرز منتخب

صابری سسٹرز اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان کی ایمبیسڈرز منتخب

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان پروگرام کے تحت صابری سسٹرز رواں سال کی دوسری سہ ماہی کی ایمبسیڈرز منتخب ہوئیں اور اس سلسلے میں 17 جون کو نیویارک سٹی کے مشہور ٹائمز سکوائر میں اسپاٹیفائی کے نمایاں ڈیجیٹل بل بورڈ پر جلوہ گر ہوئیں۔ اس طرح وہ ایکول پروگرام کے تحت عالمی سطح پر متعارف کرائی جانے والی پاکستانی خواتین گلوکاروں کی بڑھتی ہوئی فہرست کا حصہ بن گئیں۔منگل کو جاری بیان کے مطابق ثمن اور انعمتا صابری پر مشتمل یہ مقبول جوڑی ایک عظیم موسیقی ورثے کی امین ہے اور ایسے شعبے میں اپنی شناخت بنا رہی ہے جہاں روایتی طور پر مرد گلوکاروں کی اکثریت ہے۔ صابری سسٹرز روحانی اور صوفیانہ موسیقی کی روایات کو جدید موسیقی کے انداز سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک منفرد گلوکارانہ شناخت قائم کر رہی ہیں۔

صابری سسٹرز نے ایکول پاکستان کی ایمبیسڈرز منتخب ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپاٹیفائی کا ایکول پاکستان جیسا پلیٹ فارم پاکستانی گلوکاروں کو عالمی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہماری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ ہمیں بھی ان ممتاز گلوکاروں کی فہرست میں شامل ہونے کا موقع ملے جو ماضی میں ایکول ایمبیسیڈر منتخب کئے جا چکے ہیں، آج یہ اعزاز حاصل کرنا ہمارے لئے ناقابلِ یقین حد تک خوشی اور فخر کا باعث ہے خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ عابدہ پروین اور صنم ماروی جیسی عظیم شخصیات بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

ا سپاٹیفائی کی آرٹسٹس اینڈ لیبل پارٹنرشپس منیجر برائے پاکستان اور متحدہ عرب امارات رطابہ یعقوب نے کہا کہ ایکول پاکستان کا مقصد ایسے گلوکاروں کو سامنے لانا ہے جو پاکستان کے موسیقی منظرنامے کے تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں، قوالی کی صنف میں عام طور پر مرد گلوکاروں کا غلبہ رہا ہے، صابری سسٹرز ان چند خواتین میں شامل ہیں جو اس صنف میں اپنی منفرد شناخت بنا رہی ہیں۔

وہ ایک جانب اس صنف کی گہری روایات اور ورثے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دوسری جانب اسے نئی جہتیں بھی دے رہی ہیں۔ ان کی یہ پذیرائی نہ صرف ان کے انفراد ی گلوکاری کے سفر کا اعتراف ہے بلکہ پاکستانی موسیقی کے بدلتے ہوئے انداز کی بھی ستائش ہے۔