صابن کی خوشبو اور ماں کا خواب: ایک غریب بیٹی کے سفید پوش ڈاکٹر سے حج کے سفر کی داستان

لوگ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی ڈاکٹر بن جاتا ہے، تو راتوں رات امیر ہو جاتا ہے لیکن 33 سالہ فلپائنی ڈاکٹر فاطمہ الزہرہ کے سفید کوٹ کے پیچھے ایک ایسا سچ چھپا تھا،

مکہ مکرمہ ۔17مئی (اے پی پی):لوگ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی ڈاکٹر بن جاتا ہے، تو راتوں رات امیر ہو جاتا ہے لیکن 33 سالہ فلپائنی ڈاکٹر فاطمہ الزہرہ کے سفید کوٹ کے پیچھے ایک ایسا سچ چھپا تھا، جس سے دنیا بے خبر تھی۔ وہ ایک فرسٹ جنریشن ڈاکٹر تھیں، جو اسکالرشپس پر پڑھیں، قرضوں میں ڈوبی ہوئی تھیں اور 2017 میں والد کے انتقال کے بعد سے 5 بہن بھائیوں اور ماں کی اکیلی کفیل تھیں۔ سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک دن جب ڈاکٹر فاطمہ الزہرہ کی ماں نے حج پر جانے کی خواہش ظاہر کی تو فاطمہ کا دل تڑپ اٹھا۔ فیملی میڈیسن اسپیشلسٹ ہونے کے باوجود ان کی تنخواہ اتنی نہیں تھی کہ وہ ہر ماہ ہزاروں پیسو (فلپائنی کرنسی) بچا پاتیں۔ "مقدس سفر” کا خرچ 3 لاکھ 50 ہزار پیسو تھا، جو ان حالات میں ایک ناممکن خواب لگتا تھا۔پھر ایک رات ہسپتال کی تھکا دینے والی ڈیوٹی کے بعد فاطمہ نے سوشل میڈیا پر اپنی بے بسی شیئر کی۔ ایک اجنبی فالوور نے مشورہ دیاکہ "آپ ٹک ٹاک پر لائیو آ کر چیزیں کیوں نہیں بیچتیں؟یہیں سے ایک انوکھا سفر شروع ہوا۔ رات 8 بجے سے بارہ بجے تک، جب دنیا سو رہی ہوتی، یہ ڈاکٹر آن لائن صابن بیچ رہی ہوتی تھیں۔ دن کو مریضوں کا علاج اور رات کو ماں کے خواب کی چوکیداری۔ فاطمہ نے ایک، دو یا سو نہیں بلکہ 6 ہزار سے زائد صابن فروخت کیے۔ ہر صابن پر ملنے والا ایک ڈالر سے بھی کم کا کمیشن، آہستہ آہستہ ماں کے پاسپورٹ پر حج کا ویزا بنتا چلا گیا۔آج ان کی 61 سالہ ماں مکہ مکرمہ میں ہیں، اور یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب نیت سچی ہو، تو صابن بیچنے والی بیٹی کی لاج بھی کائنات کا مالک رکھ لیتا ہے۔

مزید خبریں