اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ صحافت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے ضرورت ہے، تمام صوبائی اسمبلیوں کو یو ٹیوب چینلز شرع کرنے چاہیئں، پرنٹ میڈیا کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ عوام کی خوشحالی کیلئے وسائل کا منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ نیب حکومت کے زیر انتظام نہیں۔پنجاب حکومت نواز شریف کے میڈیکل رپورٹ …
صحافت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے ضرورت ہے، فواد حسین چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ صحافت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے ضرورت ہے، تمام صوبائی اسمبلیوں کو یو ٹیوب چینلز شرع کرنے چاہیئں، پرنٹ میڈیا کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ عوام کی خوشحالی کیلئے وسائل کا منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ نیب حکومت کے زیر انتظام نہیں۔پنجاب حکومت نواز شریف کے میڈیکل رپورٹ کی تحقیقات کریگی۔وزارت اطلاعات کی دو سالہ کارکردگی دیکھ کر خوشی ہوئی۔ہفتہ کو یہاں میڈیا ٹریننگ ورکشاپ اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت اطلاعات کی دو سالہ کارکردگی دیکھ خوشی ہوئی۔جن سات نکات پر میں نے کام کیا تھا ابت وہی چل رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ صوبائی اسمبلیوں کو یو ٹیوب چینلز شروع کرنے چاہیئں ،عوام اسمبلیوں کی کارروائی اور قانون سازوں کی کارکردگی دیکھ سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ،ہم نے جہوریت سے فاشزم کا راستہ روکنا ہے تو اس میں صحافیوں کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے ضرورت ہے۔ جدید دور میں پرنٹ میڈیا کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے،صحافت کو نئی ٹیکنالوجی کو ساتھ لیکر چلنا پڑے گا۔صوبائی فنانس ایوارڈ کا نفاذ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا چاہیئے۔ عوام کی خوشحالی کیلئے وسائل کا منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈریشن انصاف پر قائم رہتا ہے اور وہ اختیارات کی تقسیم سے ہوتا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب اور کے پی ھکومت کو اختیارات کی تقسیم میں پہل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف،مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ نے کتنے اخراجات کئے سب کو معلوم ہے۔اختیارات صرف وزیر اعلی ہاوس تک رکھنے کے حق میں نہیں۔نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہوں تو مسائل کم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شرہف نے 17کھرب اور مراد علی شاہ نے 17کھرب خرچ کئے۔نیب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیب حکومت کے زیر انتظام نہیں مکمل با اختیار ادارہ ہے اور حکومت کوئی ہدایات نہیں دے رہی۔ پنجاب حکومت نواز شریف کے میڈیکل رپورٹس کی تحقیقات کریگی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے کا فیصلہ میڈیکل رپورٹس کو مدنظر رکھ کر کیا گیا تھا۔تحقیقات ہوگی تو پتہ چلے گا کون جعلی رپورٹس بنانے میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اس وقت بھی کہاتھ ا کہ نواز شریف بیمار نہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف صحتیاب ہیں اور وہ کافیاں پی رہے ہیں۔ نواز شریف کی فیملی کو بھی معلوم ہے کہ وہ اب ٹھیک ہیں اور انہیں اب کوئی پریشانی نہیں۔انہوں نے کہا کہ جعلی میڈیکل رپورٹ بنانا جرم ہے جس کی سزا دس سال قید ہے۔ حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف کا درد ایک ہی ہے۔ان کا درد یہی ہے کہ انکے خلاف کیسز بند ہوں۔کیا جاتے وقت بھی نواز شریف کی طبیعت اتنی ہی خراب تھی۔فواد چوہدری نے کہا کہ یوٹیوب، پب جی اور ٹک ٹاک پر پابندی کی باتیں کرنے والے ٹیکنالوجی کی اہمیت سے بے خبر ہیں تاہم ان اپلیکیشنز کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا آٹا ،چینی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں چند دنوں میں کمی آجائیگی۔ایک سواک جاوب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی وجہ پاکستان فیٹیف میں چلا گیا۔جب ہم فیٹیف لسٹ سے باہر نکلنے کی بات کرتے ہیں تو یہ لوگ سیاسی دباو بڑھاتے ہیں۔فضل الرحمان اور عطاالرحمان ان سب نیب کے کیسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران نے کم عمر بچوں کی شادی کا بل منظور کئے لیکن ہماری پارلیمنٹ منظور نہیں کر پاپا رہی۔








