صحت پر سیاست نہیں ہوگی،سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو علاج اور مکمل طبی معائنے کے لیے جلد شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہسپتال کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کر دی

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو علاج اور مکمل طبی معائنے کے لیے جلد شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہسپتال کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ایک بات طے کرلیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں ہوگی۔ جسٹس شاہد وحید نے بھی واضح کیا کہ میڈیکل رپورٹ کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔عدالت نے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ میں کارڈیالوجسٹ، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو شامل کیا جائے۔ عدالت نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بانی پی ٹی آئی کے ہمراہ رہنے کی اجازت بھی دے دی۔وکیل عذیر بھنڈاری نے عدالت سے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کا شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے جس کے اخراجات نجی طور پر ادا کیے جائیں گے۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو نجی ہسپتال ہی کیوں منتقل کرنا چاہتے ہیں، پمز میں تو انہیں اکثر لے جایا جاتا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ شفاء انٹرنیشنل میں مکمل چیک اپ کرانا چاہتے ہیں۔جسٹس نعیم اختر افغان نے ہسپتال کے باہر ممکنہ مجمع لگنے سے متعلق استفسار کیا تو وکیل عذیر بھنڈاری نے بتایا کہ اڈیالہ جیل کے باہر ایک کلومیٹر دور پولیس چوکی موجود ہے۔ جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیئے کہ ہسپتال میں دیگر مریض بھی ہوتے ہیں، کسی کو ڈسٹرب نہیں ہونا چاہیے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہماری سیاست کے اصول الگ ہیں، ہم صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کریں گے۔ میڈیکل رپورٹ ڈاکٹروں اور عمران خان کی فیملی کا معاملہ ہے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت کو جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت سے قبل تمام میڈیکل ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔سپریم کورٹ نے گزشتہ تین سال کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کرلیا جبکہ بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ تین سال کے دوران بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی 48 ملاقاتیں کرائی گئی ہیں۔ عذیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی جائے، وہ میڈیا ٹاک نہیں کریں گی۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے؟ وکیل نے جواب دیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان ڈاکٹر ہیں، ان کی ملاقات کرائی جائے۔ عدالت نے دریافت کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم یوسف معدے کے ڈاکٹر ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو معدے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ وکیل نے اس پر ڈاکٹر فیصل سلطان کو ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی۔عدالت نے ملاقاتوں کے معاملے پر پی ٹی آئی اور خاندان سے حلف نامہ طلب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں کی جائے گی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے موقف اختیار کیا کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کرکے یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی تھی اور اس معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی کیس زیر سماعت ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ یقین دہانی ان کی تھی، باقی لوگوں کا کیا قصور ہے؟ جسٹس شاہد وحید نے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات اور سزائوں کے بارے میں بھی استفسار کیا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر 2026ء تک ملتوی کر دی۔