ابوظہبی۔24اکتوبر (اے پی پی):صدارتی دیوان برائے ترقی و شہداء کے نائب چیئرمین شیخ ذیاب بن محمد بن زاید النہیان نے دنیا کے سب سے بڑے قابل تجدید توانائی منصوبے کی سنگ بنیاد تقریب میں شرکت کی جو شمسی توانائی اور بیٹری سٹوریج کو ایک ہی نظام میں مربوط کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ منصوبہ ابوظہبی فیوچر انرجی کمپنی 'مصدر' اور امارات واٹر اینڈ …
صدارتی دیوان برائے ترقی و شہداء کے نائب چیئرمین شیخ ذیاب بن محمد بن زاید النہیان کی قابل تجدید توانائی منصوبے کی سنگ بنیاد تقریب میں شرکت

مزید خبریں
ابوظہبی۔24اکتوبر (اے پی پی):صدارتی دیوان برائے ترقی و شہداء کے نائب چیئرمین شیخ ذیاب بن محمد بن زاید النہیان نے دنیا کے سب سے بڑے قابل تجدید توانائی منصوبے کی سنگ بنیاد تقریب میں شرکت کی جو شمسی توانائی اور بیٹری سٹوریج کو ایک ہی نظام میں مربوط کرے گا۔
متحدہ عرب امارات کی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ منصوبہ ابوظہبی فیوچر انرجی کمپنی ‘مصدر’ اور امارات واٹر اینڈ الیکٹر سٹی کمپنی ‘ایوییک’ کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں 5.2 گیگاواٹ شمسی فوٹو وولٹائک پلانٹ اور 19 گیگاواٹ آور بیٹری سٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) شامل ہوگا جو دن رات 1 گیگاواٹ صاف توانائی عالمی سطح پر مسابقتی نرخوں پر فراہم کرے گا۔ وام کے مطابق یہ 22 ارب درہم مالیت کا منصوبہ متحدہ عرب امارات کے قابل تجدید توانائی کے سفر میں ایک نیا سنگ میل ہے۔
منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد سالانہ 5.7 ملین ٹن کاربن کے اخراج میں کمی ہوگی اور 10,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔اس میں جدید ٹیکنالوجیز جیسے ورچوئل پاور پلانٹ سسٹم، مصنوعی ذہانت پر مبنی موسمی پیشگوئی اور خودکار توانائی کی تقسیم بھی شامل ہیں جو اسے دنیا بھر کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل بنائیں گی۔اس موقع پر وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور مصدر کے چیئرمین ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ یہ منصوبہ یو اے ای کی صاف توانائی کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ہے اور ملک کی قابل تجدید ٹیکنالوجی میں قائدانہ حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مصدر کے سی ای او محمد جمیل الرماحی اور ایوییک کے سی ای او احمد علی الشامسی نے کہا کہ یہ اقدام ابوظہبی کو جدید ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کے عالمی مرکز کے طور پر مزید مضبوط کرے گا جو قومی پائیداری کے اہداف اور عالمی توانائی کی منتقلی کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔یہ منصوبہ نہ صرف متحدہ عرب امارات کے توانائی کے پائیدار ماڈل کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے محفوظ، قابلِ اعتماد اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔








