صدرآزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، وزیر مملکت علی محمد خان اوردیگرکا کشمیر یوتھ الائنس کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اگر آزاد کشمیر پر حملہ کی ناپاک جسارت کی تو اُس کا مقابلہ آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان ، اور خیبر پختونخواکے جنگو نوجوان سے ہو گا جو لڑنا بھی جانتے ہیں اور اپنے عزت و غیرت کی خاطر مرنا بھی جانتے ہیں۔ پاکستان کی 22 کروڑ …

اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اگر آزاد کشمیر پر حملہ کی ناپاک جسارت کی تو اُس کا مقابلہ آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان ، اور خیبر پختونخواکے جنگو نوجوان سے ہو گا جو لڑنا بھی جانتے ہیں اور اپنے عزت و غیرت کی خاطر مرنا بھی جانتے ہیں۔ پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں 13 کروڑ نوجوان ہیں وہ اپنے وطن کو بچانے کے لیے کشمیریوں کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوں اور ڈیجیٹل ہتھیاروں سے اپنے آپ کو لیس کر کے دنیا کے سامنے بھارت کے جھوٹ اور مکاریوں کو بے نقاب کریں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ایوان صدر مظفرآباد میں کشمیر یوتھ الائنس کے زیر اہتمام ایک روزہ ویلنٹئر پیس کانفرنس کے اختتامی سیشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان ، سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے قائد سردارعتیق احمد خان، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجلس حسابات کے چیئرمین عبدالرشید ترابی ، ڈاکٹر مجاہد گیلانی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جبکہ کانفرنس کے چاروں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر کے تمام اضلاع سے نوجوان طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ نوجوانوں کو ملک کا مستقبل اور قوم کی تقدیر قرار دیتے ہوئے صد را ٓزاد کشمیر نے کہا کہ اس وقت نوجوانوں کی تمام ذمہ داریوں اور فرائض میں پہلا فریضہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا اور بھارت کی طرف سے اُٹھنے والے خطرے کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ بھارت نہ صرف کشمیر پر قبضہ مستحکم کر کے کشمیریوں کی آواز کو ختم کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ پاکستان اور پورے بھارت کے مسلمانوں کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نہ صرف نا مکمل ہے بلکہ خدا نخواستہ اگر بھارت کشمیر میں کامیاب ہو گیا تو اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان اور پورے جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی اعلانیہ کہہ رہا ہے کہ وہ پاکستان کو ایٹم بم سے اُڑا دے گا ۔ اُس کا وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور آرمی چیف آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن اُنہیں شاید اس بات کا علم نہیں کہ بھارت کی فوج صرف نہتے لوگوں کو مار سکتی ہے بھارت کی اپنے مقابلے کی فوج کے ساتھ لڑ سکتی ہے اور نہ ہی اُس کے پاس جنگ لڑنے کی تربیت اور صلاحیت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کا اصل دشمن پاکستان ہے اور نہ ہی کشمیری عوام ہیں بلکہ وہ شخص ہے جو نئی دہلی کے وزیراعظم ہاﺅس میں بیٹھا ہے اور جس کا نام نریندر مودی ہے جو پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے تو نہیں کر سکتا لیکن بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ضرور کر دے گا ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام میں اتحاد و یکجہتی کی فضا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم ایک ایسے وقت میں سیاسی اختلافات کے متحمل نہیں ہو سکتے جب بھارت جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور آر ایس ایس کا سربراہ چار لاکھ نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو فوجی تربیت دے کر اُنہیں جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے ۔ اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بھارت سے اُٹھنے والے ہندو توا کے طوفان کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کا مقابلہ کرنے اور اسلام کے قلعہ پاکستان کو بچانے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ نوجوان افواہوں پر کان نہ دھریں ، مایوسی اور شکست خوردگی کا بیانیہ چھوڑ کر اپنے اندر عزم و ہمت پیدا کریں اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ پاکستان کو دنیا کی مضبوط ترین ریاستوں میں سے ایک ریاست بنا کر بھارت کے نا پاک اور مکروہ عزائم کو ناکام بنائیں ۔ اُنہوں نے کہا بھارت طرح طرح کی افواہیں پھیلا کر ہمارے اتحاد و یکجہتی کو کمزور کرنا چاہتا ہے ، خود مختار کشمیر کے نظریہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر میں خود مختاری کے حامی رہنماﺅں میں ایک مہاراجہ ہری سنگھ اور دوسرا شیخ عبداللہ تھے جن کے غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے کشمیر کے ایک بڑے حصے کو غلامی کا طویل دور دیکھنا پڑا ۔ اُنہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام نے خود مختار ریاست بنانے کے لیے آزادی کی جنگ نہیں لڑی تھی بلکہ اس جنگ آزادی کا بنیادی محرک پاکستان سے ملنے کی خواہش تھی ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ خطہ جموں و کشمیر تاریخی ، جغرافیائی ، مذہبی اور فطری اعتبار سے پاکستان کا حصہ ہے اور کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ ماضی میں ایک مضبوط رشتہ تھا اور یہ رشتہ مستقبل میں بھی رہے گا جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی ۔ پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان تعلق یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے۔ کشمیری ایک جانب پاکستان سے ملنے کی خواہش میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور دوسری جانب کشمیر کے چپے چپے پر پاکستان کے چاروں صوبوں کے نوجوانوں کا خون بکھرا ہوا اور اُن کی قبریں کشمیریوں کی محبت کی گواہی دے رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومتوں کے موقف میں کوئی لچک ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کی مسلح افواج کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتی ۔ اپنے خطاب میں وفاقی وزیر علی محمد خان نے کہا کہ اگر وقت آیا تو وہ نوجوانوں کی قیادت کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑیں گے ۔ اگر بھارت نے کوئی شر انگیزی کی تو اس خطہ کو بھارت کی فوج کا قبرستان بھی بنائیں گے اور کشمیرکو بھی آزاد کرائیں گے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما اور ممبر قانون ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر ، تحریک پاکستان کا تسلسل ہے اگر کشمیر کی جدوجہد آزادی سے پاکستان کو نکال دیا جائے تو یہ ساری جدوجہد بے معنی اور بے سمت ہو کر رہ جائے گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد بھارت کو یہ اندازہ تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو کچل دے گا لیکن کشمیریوں نے بے پناہ عزم و استقلال کا مظاہر ہ کر کے بھارتی حکمرانوں کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔