صدر مملکت نے 31 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کردیے ۔ قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا باقاعدہ طور پر حصہ بن گئے

اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے 31 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا باقاعدہ طور پر حصہ بن گئے ہیں اور ان علاقوں کے عوام کو ملک کے دیگر عوام کے مساوی آئینی حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ صدر مملکت نے اس موقع پر ان علاقوں کے عوام کو دلی مبارک دیتے ہوئے کہا …

اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے 31 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا باقاعدہ طور پر حصہ بن گئے ہیں اور ان علاقوں کے عوام کو ملک کے دیگر عوام کے مساوی آئینی حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ صدر مملکت نے اس موقع پر ان علاقوں کے عوام کو دلی مبارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تاریخی اقدام سے سابقہ قبائلی علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھل گئے ہیں جس سے پاکستان مضبوط ہو گا اور خطے میں استحکام پیدا ہوگا۔آئینی ترمیم پر دستخط کے سلسلے میں جمعرات کو ایوان صدر میں سادہ مگر پر وقار تقریب ہوئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، فاٹا ریفارم کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل(ر)ناصر جنجوعہ اوروزیر اعظم کے مشیر بیرسٹر ظفراللہ خان بھی موجود تھے۔آئینی ترمیم پر دستخط کرنے کے بعد صدر مملکت نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی اورسابقہ قبائلی علاقوں کے عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قبائلی علاقوں کا انضمام ایک تاریخ ساز واقعہ ہے جسے کامیاب بنانے کے لیے پوری قوم کو مل کر کام کرنا ہے۔ فاٹاریفارم کمیٹی کے سربراہ اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز نے اس موقع پر کہا کہ اس آئینی ترمیم کے بعد قبائلی علاقے خیبر پختونخوا کا حصہ بن گئے ہیں اور ان علاقوں کے عوام کو ملک کے دیگر تمام علاقوں کے مساوی حقوق حاصل ہو گئے ہیں، سابقہ ایجنسیاں اضلاع میں بدل چکی ہیں جو اب مغربی اضلاع کہلائیں گی۔