صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا اخوت فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کی مدد کرنا اسلامی معاشرے کا لازمی جزو ہے، پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی اور تقریباً چار دہائیوں سے کھلے دل سے ان کی میزبانی کر کے انسانی ہمدردی کی مثال قائم کی ہے۔ خصوصی افراد کے لئے سہولیات و مواقع کی فراہمی کے حوالے …

اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کی مدد کرنا اسلامی معاشرے کا لازمی جزو ہے، پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی اور تقریباً چار دہائیوں سے کھلے دل سے ان کی میزبانی کر کے انسانی ہمدردی کی مثال قائم کی ہے۔ خصوصی افراد کے لئے سہولیات و مواقع کی فراہمی کے حوالے سے قوانین پر عمل درآمد اور رویوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وہ منگل کو ایوان صدر میں اخوت فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ انسانوں کے باہمی تعلق کا معیار محبت اور انسانیت پر مبنی ہونا چاہئے، پاکستان اس اعتبار سے اہم ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد اب انسانی ہمدردی کے جذبہ کے لحاظ سے دنیا میں ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 35 لاکھ مہاجرین کو کھلے دل سے پناہ دی اور تقریباً چار دہائیوںسے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے لیکن ملک کے اندر سے کبھی اس بارے میں کوئی اعتراض نہیں اٹھا جبکہ مہاجرین کے لئے یورپ کا ردعمل بھی سب کے سامنے ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں مخیر حضرات کی زیادہ تعداد خوش آئند ہے، پاکستان کے عوام ناگہانی آفات میں حکومتوں کا انتظار کئے بغیر متاثرین کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، ہمارا مذہب معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کی مدد کرنے کی تعلیم دیتا ہے، ہمارے نبی نے خیرات کرنے کا عملی درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اچھائی اور نیکی کی ترویج کرنی چاہئے تاکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عظیم قوم اپنے مالی حالات سے نہیں بلکہ کمزور طبقات کی مدد کے لئے موجود جذبہ سے پہچانی جاتی ہے۔ صدر مملکت نے خصوصی افراد کو امید اور حوصلے کی علامت قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے حکومتی سطح پر سازگار پالیسیاں تشکیل دی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتوں میں خصوصی افراد کے لئے کوٹہ مختص کرنے، عوامی مقامات پر رسائی کے لئے سہولیات مہیا کرنے سے ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ معذور افراد کو خصوصی اداروں کی بجائے روایتی سکولوں میں تعلیم دی جائے تاکہ معاشرہ میں ان کے مسائل اور ضروریات کے متعلق احساس پیدا کیا جا سکے۔ خصوصی افراد کے متعلق درست اعداد و شمار کی دستیابی ان کے مسائل کے حل اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ صدر مملکت نے اخوت فاﺅنڈیشن کی جانب سے محروم طبقات کی مدد اور اپنے مختلف پروگراموں کے ذریعے حکومتی بوجھ بانٹنے کے اقدامات کو سراہا۔ اس موقع پر اخوت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ ان کی تنظیم جو 18 سال قبل چند ہزار روپے قرض دیتی تھی، اب ایسے ضرورت مند لوگوں کی معاون بن چکی ہے جو اپنی عزت نفس پر سمجھوتہ کئے بغیر باوقار انداز میں روزی کمانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اخوت کو مدینہ کے عوام کے بھائی چارے کے تصور کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اخوت کے بلا سود قرضوں کی واپسی کی شرح 99.9 فیصد ہے جس نے مستحق لوگوں کو مجموعی طور پر 100 ارب روپے کے آسان قرضوں کی فراہمی کے ذریعے خوشیاں دی ہیں۔ اس موقع پر صدر مملکت نے 25 خصوصی افراد کو خصوصی ویل چیئرز فراہم کیں جبکہ خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے ضرورت مند خواتین اور بچوں میں تحائف تقسیم کئے۔

مزید خبریں