صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی انٹرویو

اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ علمائے کرام کے ساتھ طے پانے والا 20 نکاتی فارمولا اجماع امت ہے، اجماع کی خلاف ورزی جرم نہیں گناہ کے زمرے میں آئے گی، یہ قانونی معاہدہ ہے اور اس پر عمل کرنا ہو گا، اگر مساجد میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو حکومت مساجد کو بند …

اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ علمائے کرام کے ساتھ طے پانے والا 20 نکاتی فارمولا اجماع امت ہے، اجماع کی خلاف ورزی جرم نہیں گناہ کے زمرے میں آئے گی، یہ قانونی معاہدہ ہے اور اس پر عمل کرنا ہو گا، اگر مساجد میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو حکومت مساجد کو بند کرنے کا اختیار رکھتی ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ ہماری قوم منظم نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہماری قوم منظم ہے اور اسے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے، وزیراعظم عمران خان صحیح سمت کی طرف گامزن ہیں اور وہ ہر محاذ پر جنگ کرنے کیلئے تیار ہیں، وہ بدعنوان عناصر کے خلاف جنگ سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہیں اور اس مشن میں میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی انٹرویو میں صدر مملکت نے کہا کہ تراویح کے حوالے سے سیاسی شخصیات سے بات ہوئی تو انہوں نے بھی اس پر اتفاق کیا کہ سماجی فاصلے کے ساتھ تراویح پڑھی جا سکتی ہے، ہرصوبے میں علماءکے ساتھ روابط اچھے ہیں اور مساجد کے معاملے پر میری وزیراعلی سندھ سے بھی بات ہوئی ہے، اگر کسی بھی جگہ مساجد میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطرناک بیماری ہے اسلئے عوام سے اپیل ہے کہ وہ 20 نکات کے باوجود گھروں میں نماز پڑھیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں خود بھی گھر پر تراویح پڑھوں گا، میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہوں، ہر گھنٹے بعد ہاتھ دھوتا ہوں اور ہر جگہ پر سماجی فاصلے کا اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ جیسا لاک ڈاﺅن کوئی نہیں کر سکتا، اسلئے عوام سے اپیل ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اپنائیں کیونکہ کورونا سے بچاﺅ کا یہی واحد راستہ ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ قوم ایسے مشکل حالات میں بدلتی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ قوم کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کرے، قائد اعظم نے بھی اتحاد، یک جہتی کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر پریشان ہیں اور ان کا ایک خط بھی موصول ہوا ہے، ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ یہ قوم منظم نہیں ہے میں کہتا ہوں کہ یہ تاثر غلط ہے ہمیں قوم کو موقع دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا آن لائن اجلاس فی الحال نہیں بلایا جا سکتا لیکن سماجی فاصلے پر عمل درآمد کے ساتھ پارلیمنٹ کا اجلاس ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیلی سکول متعارف کرانا اچھا اقدام ہے اور اس کے ذریعے سے بچوں کو گھر پر تعلیم کے حصول میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ فیڈریشنز کے اندر اتفاق پیدا کرنا میری آئینی ذمہ داری ہے اور میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاﺅں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان صحیح سمت کی طرف گامزن ہیں اور وہ ہر محاذ پر جنگ کرنے کیلئے تیار ہیں، وہ کرپشن کے خلاف جنگ سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہیں اور اس مشن میں میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں پیسے لیکر ووٹ دینے کے شبہ میں اپنے 22 ایم پی ایز کو فارغ کر دیا تھا، عوام کو وزیراعظم پر اعتماد ہے، عوام چاہتی کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہو اور اس مقصد کیلئے نظام کو ٹھیک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور کمپنی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پڑھی ہے‘ قوم کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے‘ یہ رپورٹ یکطرفہ ہے، اس میں اسٹیک ہولڈرز کی رائے آنا باقی ہے، وزیراعظم نے رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرانے کے حوالے سے اتفاق کیا ہے، اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو یہ جرم ہے، اگر پاور کمپنیوں نے پاکستان کا پیسہ لوٹا ہے تو وہ واپس آنا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے کئے، حکومت دیکھے گی کہ ان معاہدوں پر نظرثانی ہو سکتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران آئی پی پیز، کشمیر اور دیگر معاملات پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے، اگر لوگ زیادہ سے زیادہ وضو اور پاکیزگی کا مظاہرہ کریں تو آدھی بیماریاں کم ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگ 5 اگست 2019 سے لاک ڈاﺅن میں ہیں،بھارت کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو وباءپھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی مذمت کرتا ہوں، بھارت اپنے داخلی معاملات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ حقائق نہیں چھپا سکتا۔ عمان کی شہزادی کی ٹویٹ کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ذمہ دار ملک کی طرف سے ایسا بیان جاری کرنا خوش آئند ہے اور میں ان کا بے حد مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں میڈیا عوام کو وباءسے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے مثبت کردار ادا کر رہا۔