صدر مملکت کی زیر صدارت کورونا وباکے پیش نظر ملک بھر کے ممتاز شیعہ علماءکی فکری نشست

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت کورونا وباکے پیش نظر محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی تیاری اور کووڈ-19 کے تدارک کیلئے رہنما اصولوں پر عمل درآمد میں تعاون کرنے کے لئے ملک بھر کے ممتاز شیعہ علماءکی فکری نشست ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی۔جس میں محرم الحرام کے دوران …

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت کورونا وباکے پیش نظر محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی تیاری اور کووڈ-19 کے تدارک کیلئے رہنما اصولوں پر عمل درآمد میں تعاون کرنے کے لئے ملک بھر کے ممتاز شیعہ علماءکی فکری نشست ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی۔جس میں محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور عزاداری کے لئے ایس اوپیز پر اتفاق کیا گیا،علماءکرام نے قومی یکجہتی اور مختلف مکاتب فکر کے مابین ہم آہنگی برقرار رکھنے پر صدر مملکت کے کردار کو سراہا۔اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئر ریٹائرڈ اعجاز احمد شاہ ، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری ، گورنر پنجاب چودھری محمد سرور ، علامہ عارف واحدی ، راجہ ناصر عباس ، ڈاکٹر غضنفر مہدی ، علامہ قمر حیدر زیدی ، راجہ بشارت امامی ، اور علامہ سجاد حسین نقوی نے شرکت کی۔ صوبائی گورنرز، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، پنجاب سے علامہ افضل حسین حیدری اور علامہ حسین اکبر ، سندھ سے علامہ شہنشاہ نقوی ، علامہ سید علی قرار نقوی اور علامہ فرقان حیدر عابدی ، خیبر پختونخواہ سے علامہ عابد حسین شاکری اور علامہ ارشاد حسین خلیلی ، بلوچستان سے علامہ سید ہاشم موسوی اور علامہ شیخ جمہ اسدی ، جبکہ آزاد جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے مفتی کفایت حسین نقوی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اس نشت میں شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ماہ رمضان اور عید الفطر کے موقع پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے کورونا وبا کی روک تھام کیلئے مکمل تعاون کیا اور انہیں امید ہے کہ اس بار بھی علمائے کرام مثالی تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔ محرم الحرام کے دوران علمائے کرام نے متفقہ طور پرعزاداری اور مجالس کیلئے درج ذیل ایس او پیز پر اتفاق کیا۔مجالس عزاداری کے لیے ایس او پیز کے تحت مجالس میں فاصلے کا خیال رکھا جائے۔ امام بارگاہ میں لوگوں کے بیٹھنے کے لیے نشان لگائے جائیں۔ ہر شخص ماسک پہن کر آئے، ماسک کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ امام بارگاہ کی انتظامیہ داخلی راستوں کے باہر ماسک فراہم کر سکتی ہے۔قالین کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔ امام بارگاہ سے باہر جراثیم سے پاک چٹائیاں بچھائی جا سکتی ہیں۔ اگر قالین ہو تو روزانہ ان پر کلورین کا اسپرے کیا جائے۔ گھروں میں مجالس کے انعقاد کی صورت میں بھی ایس او پیز کا خیال رکھا جائے۔ کورونا کی وجہ سے طویل مجالس کے انعقاد سے اجتناب کیا جائے۔ مجالس کو مقررہ وقت پر ہی شروع اور ختم کیا جائے۔ عمر رسیدہ افراد کو عمومی مجالس میں شرکت سے روکا جائے اور انہیں صرف گھروں کی مجالس تک محدود رکھا جائے۔مجالس کے شرکا تسبیح، جائے نماز، سجدہ گاہ وغیرہ اپنے ہمراہ نہ لائیں۔مصافحہ، معانقہ وغیرہ سے احتراز کیا جائے۔تبرک اور نیاز کے دستر خوان کی بجائے پارسل کا اہتمام کیا جائے۔رضاکار علم، تعزیہ اور شبیہ کو چھونے سے احتراز کریں اور دور سے زیارت پر اکتفا کریں۔عزاداری کے منتظمین مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کریں۔عزاداری ، عاشورہ اور محرم الحرام کے جلوسوں کے لیے ایس او پیز کے تحت محرم کے دوران لائسنس یافتہ اور روایتی جلوس کو احتیاطی تدابیر (ایس او پیز) کے ساتھ اجازت ہوگی۔جلوس میں ہینڈ سینیٹائزر کااستعمال اور ماسک لگا نا ضروری ہے۔ جلوس میں افراد کے مابین مناسب فاصلے کو برقرار رکھا جائے۔پانی پینے پلانے کے دوران مشترکہ برتن کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ رضا کار اسکاوٹس کے ذریعے جلوس کے شرکاءسے ہدایات پر عمل درآمد کروایا جائے۔شرکاءکی تعداد مناسب رکھی جائے اور وقت کو محدود کیا جائے۔ عمر رسیدہ اورمختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو جلوس میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے۔ صدر مملکت نے علماءکرام سے بھرپور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا اور متعلقہ ایس او پیز پر متفق ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ علماءکرام نے قومی یکجہتی اور مختلف مکاتب فکر کے مابین ہم آہنگی برقرار رکھنے پر صدر مملکت کے کردار کو سراہا۔کورونا وبا کے بعد مذہبی اجتماعات اور عبادات کیلئے احتیاطی ضابطی اخلاق اور ایس او پیز کی تیاری کے حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد پر بھی صدر مملکت نے ملک بھر کے جید علمائے کرام اور مذہبی سکالرز کے ساتھ اجلاسوں اور مشاورت کے بعد ایس او پیز تیار کروائے تھے جن پر ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے اتفاق کیا تھا اور ملک بھی کی مساجد میں نمازوں و تراویح کی ادائیگی اور اعتکاف کیلئے جاری ایس او پیز پر عملدرآمد کیا گیا جس کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو کافی حد تک کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اب ایک مرتبہ پھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے محرم الحرام کی آمد سے قبل ملک بھر کے ممتاز شیعہ علمائے کرام کی فکری نشست کا انعقاد کیا ہے جس میں عزاداری اور مجالس کیلئے ایس او پیز پر اتفاق رائے کیا گیا ہے اور صدر مملکت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس بار بھی علمائے کرام مثالی تعاون کا مظاہرہ کریں گے اور ان متفقہ ایس او پیز کے مطابق مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ کورونا وبا کے پھیلاو¿ کو امکانات کو کم سے کم حد تک رکھا جا سکے۔

مزید خبریں