اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خاتون اول ثمینہ علوی نے چھاتی کے سرطان کے حوالہ سے آگاہی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری کی بروقت تشخیص سے شرح اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے، چھاتی کے کینسر کی شرح اموات جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں زیادہ ہے۔ ایوان صدر میڈیا ونگ …
صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خاتون اول ثمینہ علوی کا سینئر صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خاتون اول ثمینہ علوی نے چھاتی کے سرطان کے حوالہ سے آگاہی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری کی بروقت تشخیص سے شرح اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے، چھاتی کے کینسر کی شرح اموات جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں زیادہ ہے۔ ایوان صدر میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منگل کو یہاں ایوان صدر میں سینئر صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران انہوں نے زور دیا کہ عوام کو بیماری کی حساسیت سے آگاہ کیا جائے اور بالخصوص اکتوبر میں عالمی برادری کے ساتھ ساتھ چھاتی کے کینسر کے حوالہ سے شعور اجاگر کیا جائے جس کو پنک ربن مہم بھی کہا جاتا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 90 ہزار خواتین کو چھاتی کے کینسر کا مرض لاحق ہوتا ہے اور 40 ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہیں۔ اس طرح پاکستان میں چھاتی کے کینسر سے شرح اموات 45 فیصد ہے جبکہ عالمی سطح پر شرح اموات 2 تا 4 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی جلد اور بروقت تشخیص سے علاج معالجہ کے اخراجات میں کمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور اس سے مریضوں کی صحت یابی کا تناسب بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ چھاتی کے سرطان کی آگاہی بذریعہ موبائل فون سروس عوام کو فراہم کرنے اور مکمل معلومات کیلئے ٹیلی فون ہیلپ لائن کے قیام کی حکمت عملی زیر غور ہے۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی آگاہی، بیماری سے صحت یابی اور میڈیکل سپیشلسٹ کو ایئر ٹائم دے کر بیماری کے حوالہ سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے میڈیا کے کردار میں اضافہ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم ایک اہم عوامی مسئلہ کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کر سکتے ہیں۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ چھاتی کے سرطان کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے حوالہ سے ایک آدمی کا کردار بیماری کے بارے میں عوام کے خدشات کو دور کرنے جتنا ہی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے بارے میں آگاہی کے حوالہ سے مواد لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ کسی ملک کے دور دراز علاقوں اور بالخصوص خواتین کے اصل ہدف تک پیغام پہنچایا جا سکے۔ خاتون اول ثمینہ علوی نے خواتین پر زور دیا کہ وہ بیماری کی ابتدائی علامات کے بارے میں سستی نہ کریں کیونکہ شعور کی کمی کی وجہ سے ہر سال ہزاروں خواتین زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ انہوں نے پنک ربن کے حوالہ سے آئندہ آگاہی کے شیڈول پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس حوالہ سے میں ملتان، پشاور اور ملک کے دیگر شہروں کے دورے کروں گی تاکہ سکولز، کالجز اور این جی اوز کے اشتراک سے سیمینارز کے انعقاد سے آگاہی پیدا کی جا سکے۔ چھاتی کے کینسر کی سرجری میں 35 سالہ تجربہ رکھنے والی پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ رشید نے کہا کہ خواتین کو احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی کا کینسر موت کی علامت نہیں بلکہ قابل علاج بیماری ہے تاہم اس کی بروقت تشخیص ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلی سٹیج پر تشخیص کر لی جائے تو صحت مند ہونے کی شرح 95 فیصد ہے جبکہ دوسرے درجہ پر تشخیص سے صحت یابی کی شرح 60 تا 70 فیصد ہے۔ پاکستان میں تیسرے اور چوتھے درجہ پر تشخیص ہوتی ہے اس لئے اس کی جلد اور بروقت تشخیص ضروری ہے۔ انہوں نے 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو ہدایت کی کہ وہ سکریننگ کرائیں اور اگر کوئی مسئلہ محسوس کریں تو جلد ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ انہوں نے متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی پر بھی زور دیا جس سے بیماری کی شرح کم کی جا سکتی ہے۔ چھاتی کے سرطان کی آگاہی کی قومی مہم کے فوکل پرسن، وزارت قومی صحت کی ڈاکٹر عائشہ علیسانی مجید نے کہا کہ پمز میں چھاتی کے سرطان کا تشخیصی مرکز ایک چھت تلے مفت سہولیات فراہم کرتا ہے۔ خصوصی نشست کے دوران صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خاتون اول ثمینہ علوی نے چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی مہم پر مختلف سوالات کے جواب بھی دیئے اور میڈیا پر آگاہی مہم کو بھرپور اور مو¿ثر انداز میں چلانے کے بارے میں تجاویز بھی پیش کیں۔







