صنعتی مراعاتی پیکج سے پیداواری صلاحیت بڑھانے، برآمدات میں اضافے اور صنعتی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی، افتخار علی ملک

اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے صنعتی مراعاتی پیکج سے مقامی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے اور صنعتی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ اتوار کو لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر مہر کاشف یونس کی قیادت میں تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا …

اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے صنعتی مراعاتی پیکج سے مقامی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے اور صنعتی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

اتوار کو لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر مہر کاشف یونس کی قیادت میں تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیکج سے طویل مدتی فوائد حاصل ہونگے کیونکہ نئی کمپنیوں میں نجی سرمایہ کاری، بیمار یونٹس کی بحالی اور موجودہ صنعتوں کی صلاحیت میں اضافہ کیلئے اس میں اعلان کردہ مراعات نے تمام سابقہ اقدامات کو مات دے دی ہے۔ صنعتی یونٹس اپنی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے اقدامات اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید سائنسی خطوط پر اپنی ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس پیکج سے چھوٹے اور بڑے صنعتی یونٹس میں 50 ملین روپے اور اس سے زائد کی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے گا جس سے صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیک شگون ہے کہ تمام مقامی خصوصا ًغیر ملکی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کار جون 2024 تک اپنی پیداوار شروع کر کے ٹیکس میں چھوٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس صنعتی ایمنسٹی کے تحت نئے صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے فنڈز کے ذرائع کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا جس سے وہ غیر ظاہر شدہ رقم کو سفید کر سکیں گے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ مقامی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اضافی ٹیکس فوائد بھی حاصل ہوں گے، اس سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک معاشی ترقی اور صنعتی پیداوار میں تنوع لائے بغیر غربت کا خاتمہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی کی راہ میں سرخ فیتے کی رکاوٹوں کے علاوہ سرمایہ کاروں کے لیے بوجھل طریقہ کار کو ون ونڈو کے تحت سہل اور آسان بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز کو بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں برآمدی اشاریئے مثبت ہیں لیکن بڑھتی ہوئی درآمدات کو روکنے کی ضرورت ہے۔

مہر کاشف یونس نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ منافع بخش مراعات کے اس بے مثال پرکشش پیکج سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔