اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):عالمی بینک نے کہا ہے کہ صنفی تضاد کے خاتمہ سے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 30 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ قومی معیشت کے مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کےمطابق پاکستان میں مردوں کی شرح تعلیم 73 فیصد جبکہ خواتین میں 52 فیصد ہے۔ افرادی قوت میں مرد کارکنوں کی …
صنفی تضاد کے خاتمہ سے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 30 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے،عالمی بینک کی رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):عالمی بینک نے کہا ہے کہ صنفی تضاد کے خاتمہ سے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 30 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ قومی معیشت کے مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کےمطابق پاکستان میں مردوں کی شرح تعلیم 73 فیصد جبکہ خواتین میں 52 فیصد ہے۔ افرادی قوت میں مرد کارکنوں کی شرح 81 فیصد ہے تاہم 23 فیصد خواتین افردی قوت میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کاروباری تحفظ اور دوسرے مرحلہ کی فنڈنگ کی سہولت 17 فیصد مردوں کو دستیاب ہے جبکہ کوخوتین کی شرح 13 فیصد ہے۔ پاکستان میں صنعتی تضاد کا خاتمہ ممکن ہے اور صنعتی مساوات کی فراہمی سے پاکستان کی جی ڈی پی میں 30 اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق ملک بھر میں مالیات تک رسائی کے بارے میں خواتین کی آگاہی مردوں کے مقابلہ میں کم ہے تاہم پنجاب میں یہ شرح سب سے زیادہ 59 فیصد ہے جبکہ سندھ میں 56 فیصد، خیبر پختونخوا میں 49 فیصد اور بلوچستان میں سب سےکم 13 فیصد ہے۔








