اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کرنے والوں کو تنقید کا کوئی حق نہیں، پی ٹی آئی کے قول و فعل میں تضاد ہے، یہ اپنی سیاسی غلطیاں چھپانے کے لئے الزام لگاتے ہیں، جب عدالتیں ان سے ثبوت مانگتی ہیں تو یہ تاریخیں مانگتے ہیں، بابر نواز خان کو فتح پر خراج تحسین پیش کرتا …
ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کرنے والوں کو اس پر تنقید کا کوئی حق نہیں، یہ اپنی سیاسی غلطیاں چھپانے کے لئے الزام لگاتے ہیں، عدالتیں ان سے ثبوت مانگتی ہیں اور یہ تاریخیں مانگتے ہیں، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کرنے والوں کو تنقید کا کوئی حق نہیں، پی ٹی آئی کے قول و فعل میں تضاد ہے، یہ اپنی سیاسی غلطیاں چھپانے کے لئے الزام لگاتے ہیں، جب عدالتیں ان سے ثبوت مانگتی ہیں تو یہ تاریخیں مانگتے ہیں، بابر نواز خان کو فتح پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق سپیکر اسد قیصر کے دور میں ایوان کی آدھی فرنٹ لائن جیلوں میں تھی لیکن ہم پھر بھی مذاکرات کی بات کرتے تھے، جب کشمیر پر اجلاس بلایا گیا تو ان کا لیڈر نہیں آیا جبکہ ہمارے اپوزیشن لیڈر اس وقت اجلاس میں موجود رہے، تمام چیرہ دستیوں اور فسطائیت کے باوجود میاں شہباز شریف نے کہا تھا کہ میثاق جمہوریت کے لئے تیار ہوں، ہم سے بات کریں لیکن یہ اس وقت نعرے لگاتے اور برا بھلا کہتے تھے جبکہ ہم ملک کی بات کر رہے تھے۔
اب بھی سپیکر قومی اسمبلی نے انہیں کئی بار مذاکرات کیلئے کہا، کمیٹی بھی بنی مرحوم عرفان صدیقی اس کمیٹی کے رکن تھے لیکن پی ٹی آئی نے مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا، ان کی محدود یاد ہے، ضمنی انتخابات میں انہوں نے خود بائیکاٹ کیا، جو میدان میں کھیلنے نہیں آیا تو اسے ضمنی الیکشن پر بات کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ انہوں نے سیاسی عمل کا حصہ بننے سے انکار کیا، الیکشن سے بائیکاٹ کا فیصلہ ان کی اپنی جماعت کا تھا، اب دھاندلی کا الزام لگا کر شور مچا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ہری پور سے بابر نواز خان کو فتح حاصل کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین الیکشن لڑا، ان کے سامنے بہت بڑا سیاسی خاندان تھا، خیبر پختونخوا حکومت، پولیس اور انتظامیہ تھی، اس کے باوجود بابر نواز خان ان سے فتح چھین کر لایا اور آج یہاں حلف لیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں اس پر عدالتی ریلیف اعلیٰ عدالتوں سے ملا۔ جب نواز شریف نے باہر جانا تھا تو پی ٹی آئی کی اپنی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا اور آج یہ اس پر تنقید کرتے ہیں تو انہیں اپنے طرز عمل پر تھوڑی سی نظرثانی کرتے ہوئے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا شور کرنے والے بتائیں کہ ان کی لیگل دستاویزات کہاں ہیں؟ ٹریبیونل کے لئے آپ نے کیا کیس تیار کیا ہے؟
ہمارے اوپر بھی یہ الزامات لگاتے تھے، میرے کیس میں بھی میرے خلاف پی ٹی آئی کا امیدوار کئی مرتبہ کورٹ سے بھاگ چکا ہے، یہ میڈیا میں بیٹھ کر فارم 47 کی بات کرتے ہیں اور عدالتوں سے بھاگ جاتے ہیں، یہ ان کا دہرا معیار ہے کہ میڈیا پر شور مچائو اور جب عدالت دستاویزی ثبوت مانگے تو یہ تاریخیں مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف جھکتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں، انہوں نے ہمارے مخالف امیدواروں کے ساتھ مل کر میڈیا، سوشل میڈیا پر پوری کمپین چلائی اس کے باوجود انہیں شکست فاش ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست میں کبھی بائیکاٹ نہیں ہوتا، اپنی سیاسی غلطی کو چھپانے کے لئے اس ایوان، سپیکر اور میاں نواز شریف کو الزام دینا ان کا شرمناک عمل ہے۔ وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ان کے ہر قول و فعل میں تضاد ہے، ان کے سوشل میڈیا اکائونٹس فیلڈ مارشل اور پاک فوج کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور انہیں انڈیا اور افغانستان میں لائکس ملتے ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا اکائونٹس کے ذریعے جو کمپین شروع کی ہے وہ قابل مذمت ہے، ہر پاکستانی اسے مسترد کرتا ہے، انہیں منہ کی کھانا پڑے گی۔








