گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضم شدہ اضلاع کے قبائلی صحافیوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی
ضم شدہ اضلاع کے قبائلی صحافیوں کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 04 ستمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضم شدہ اضلاع کے قبائلی صحافیوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی جبکہ انہوں نےفرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے صحافیوں کے اہلخانہ کےلیے ایوارڈز متعارف کرانے کا بھی اعلان بھی کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس (ٹی یو جے) کے صدر حسبان اللہ کی قیادت میں ضم شدہ اضلاع کے قبائلی صحافیوں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ گورنر خیبر پختونخوا کے پبلک ریلیشنز آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی نے سابق فاٹا میں صحافتی فرائض انجام دینے والے صحافیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا صحافیوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور شہید صحافیوں کے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈز کا سلسلہ جلد شروع کیا جائے گا۔وفد نے گورنر کو ضم شدہ اضلاع میں صحافیوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی، بنیادی سہولیات کی کمی، کرپشن، ناقص انفراسٹرکچر اور مواصلاتی مسائل کے باعث صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وفد نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سابق فاٹا کے لیے مختص تقریباً 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مناسب طور پر استعمال نہیں کیے گئے۔ گورنر نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کئی سال تک جنگی حالات کا شکار رہے ہیں، اس لیے انہیں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا جمہوریت کے استحکام اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خاصہ دار اہلکاروں اور ضم شدہ اضلاع کے عوام کے مسائل ہر متعلقہ فورم پر اٹھائے جاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع سے متعلق متعدد اختیارات پہلے ہی صوبائی حکومت کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ وہ قبائلی صحافیوں کے مسائل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کے ساتھ اٹھائیں گے تاکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ 27 ستمبر کو مجوزہ مارچ کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ احتجاج سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے، اس لیے شکایات اور مطالبات کے حل کے لیے مذاکرات اور آئینی ذرائع اختیار کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے معاشرے سے منشیات کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والی نسلوں کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ گورنر نے ضم شدہ اضلاع میں موبائل فون نیٹ ورک کی کوریج بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ قابل اعتماد مواصلاتی نظام عوامی خدمات کے لیے ناگزیر ہے، خصوصاً بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایس ایم ایس الرٹس اور دیگر ضروری معلومات کی بروقت وصولی کے لیے موبائل رابطہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے صحافیوں اور عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔








