طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی تحریکیں تیز ہو گئیں ۔افغانستان فریڈم فرنٹ کا "سپرنگ گوریلا آپریشنز” کا آغاز ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے خلاف افغانستان کے اندر سے داخلی سیاسی و مسلح مزاحمتی تحریکیں زور پکڑنے لگیں،افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے شمالی صوبے بدخشان کے مختلف اضلاع میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں
طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی تحریکیں تیز،افغانستان فریڈم فرنٹ کا "سپرنگ گوریلا آپریشنز” کا آغاز
کابل/اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی تحریکیں تیز ہو گئیں ۔افغانستان فریڈم فرنٹ کا "سپرنگ گوریلا آپریشنز” کا آغاز ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے خلاف افغانستان کے اندر سے داخلی سیاسی و مسلح مزاحمتی تحریکیں زور پکڑنے لگیں،افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے شمالی صوبے بدخشان کے مختلف اضلاع میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری اعلامیہ کے مطابق افغان طالبان کے ٹھکانوں پر حملے، رجیم کے غاصبانہ تسلط سے افغانستان کو آزاد کرانے کی شروعات ہیں،حالیہ عسکری ناکامیوں کے بعد طالبان رجیم نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جھوٹی پروپیگنڈا مہم تیز کر دی۔
اعلامیہ کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ کی گوریلا کارروائیوں اور اندرونی بغاوت کے خوف سے طالبان رجیم اپنے ہی ارکان کو قید کرنے لگی۔افغانستان فریڈم فرنٹ افغان عوام کو ان کے مستقبل اور وطن پر دوبارہ حق خودارادیت دلانے کیلئےجدوجہد جاری رکھے گی۔عالمی ماہرین کے مطابق طالبان نے افغانستان کو فتنہ الخوارج اور داعش جیسے بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا کر جو بویا تھا اب وہ اندرونی خلفشار اور مزاحمت کی صورت میں کاٹ رہے ہیں،اپنے ہی ارکان کی گرفتاریاں طالبان رجیم کی صفوں میں بڑھتی ہوئی بداعتمادی،گہرے اختلافات اور مزاحمتی کارروائیوں کے خوف سے پیدا ہونے والی بوکھلاہٹ کی عکاس ہیں۔









