طالبان کے خلاف افغانستان میں مختلف محاذ گرم،افغان لبریشن فرنٹ کا طالبان رجیم کے کنٹرول کو کھلا چیلنج

طالبان کے خلاف افغانستان میں مختلف محاذ گرم ہو گئے ہیں جبکہ افغان لبریشن فرنٹ کی طرف سے طالبان رجیم کے کنٹرول کوکھلا چیلنج درپیش ہے

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):طالبان کے خلاف افغانستان میں مختلف محاذ گرم ہو گئے ہیں جبکہ افغان لبریشن فرنٹ کی طرف سے طالبان رجیم کے کنٹرول کوکھلا چیلنج درپیش ہے۔ تفصیلات کے مطابق دہشت گردوں کی سرپرست طالبان رجیم کی الٹی گنتی شروع ہو گئی، اندرونی دراڑوں اور بڑھتی مزاحمت نے طالبان رجیم کی قلعی کھول دی ۔افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ اور سابق افغان فوجی چیف جنرل یاسین ضیا ء نےدعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت رنگ لا رہی ہے،صورتحال اب ان کے کنٹرول سے باہرہے،افغان طالبان اپنی گرتی ساکھ بچانےکیلئےنام نہادحامیوں اورپروپیگنڈہ نیٹ ورکس کا سہارا لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مخصوص عناصرعوام کوطالبان کے بعد کے حالات سے ڈرارہے ہیں حالانکہ موجودہ رجیم سے بدتر کچھ نہیں ہو سکتا، ترقیاتی منصوبوں کی آڑمیں سڑکوں کی تعمیری لاگت10 گنا بڑھا کرکرپشن کرنے والےطالبان کس منہ سے حکومت چلا رہے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم چوری اورشاہراہوں پر لوٹ مار کرنے والی رجیم اگر حکومت چلا سکتی ہے تو پڑھے لکھے اور اہل لوگ کیوں نہیں؟۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان میں فعال مزاحمتی محاذ طالبان کے مکمل کنٹرول کے بیانیے کو چیلنج کررہے ہیں جبکہ مسلسل کارروائیوں نے رجیم کی ملک پرگرفت پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

سکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کے خلاف اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ابھرتی مزاحمتی تحریکیں،افغان طالبان کے عوامی حمایت اور مکمل کنٹرول کے دعوؤں کی قلعی کھول رہی ہیں۔