طالبا ن نے نئی عبوری حکومت کا اعلان کر دیا ، محمد احسن اخوند وزیراعظم ، ملاعبدالغنی برادر اورمولوی عبدالسلام حنفی نائب وزراا عظم ہوں گے

کابل۔7ستمبر (اے پی پی):طالبا ن نے نئی عبوری حکومت کا اعلان کر دیا۔محمد احسن اخوند وزیراعظم اور ملاعبدالغنی برادر اورمولوی عبدالسلام حنفی نائب وزراا عظم ہوں گے۔ منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کی نئی کابینہ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملا احمد حسن اخوند افغانستان میں نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے جبکہ ملا عبدالغنی برادر نائب سربراہ ہوں …

کابل۔7ستمبر (اے پی پی):طالبا ن نے نئی عبوری حکومت کا اعلان کر دیا۔محمد احسن اخوند وزیراعظم اور ملاعبدالغنی برادر اورمولوی عبدالسلام حنفی نائب وزراا عظم ہوں گے۔ منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کی نئی کابینہ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملا احمد حسن اخوند افغانستان میں نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے جبکہ ملا عبدالغنی برادر نائب سربراہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سراج حقانی وزیر داخلہ، ملا ہدایت اللہ وزیر مالیات، ملا خیر اللہ وزیر اطلاعات وثقافت ، حاجی عیسیٰ وزیر پٹرولیم ہوں گے جبکہ مولوی محمد یعقوب مجاہد وزیر دفاع، ملا امیر خان متقی وزیر خارجہ ہوں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ قاری دین محمد حنیف وزیر اقتصادی امور، شیخ مولوی نور اللہ وزیر معارف اور شیخ مولوی نور محمد ثاقب وزیر حج و اوقاف، نجیب اللہ حقانی وزیر مواصلات،حاجی خلیل الرحمان حقانی وزیر مہاجرین،ملا عبدالطیف منصور وزیر پانی و بجلی، ملاعبدالباقی حقانی وزیر تعلیم، ملا حمید اللہ اخوانزادہ وزیر ٹرانسپورٹیشن و ہوا بازی ، شیخ محمد خالد وزیر امر بالمعروف، ملا عبدالمعنان عمری وزیر بہبود عامہ ، ، ملا نور اللہ نوری سرحدی و قبائلی امور کے وزیر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ قاری فصیح الدین افغانستان کے آرمی چیف ہوں گے جبکہ مولوی محمد عبدالحکیم افغان عدلیہ کے سربراہ ، ملا عبدالحق وثیق این ڈی ایس کے سربراہ ہوں گے۔۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ نئی انتظامیہ عبوری ہے جس میں بعد ازاں ترمیم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنج شیر میں دونوں جانب سے خون بہا ہے، پنج شیر میں قابض قوتوں کے خلاف عسکری طاقت کے استعمال کا مقصد وہاں کے عوام کو مرکزی دھارے میں لانا ہے، پنج شیر میں امن قائم ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سازی میں رنگ و نسل کا امتیاز نہیں برتا گیا، نئی حکومت کسی لسانی گروہ کی نہیں بلکہ پورے افغانستان کی نمائندہ ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ بیرونی دنیا کے لوگوں کو یہاں کے نظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے ۔

کسی کو ہمارے ملک کے داخلی اُمور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔انہو ں نے ے افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے الزامات اور طالبان کو مبینہ پاکستانی حمایت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک پروپیگنڈا ہے اور وہ اسے رد کرتے ہیں، ہم لوگوں نے 20 سال اس ملک کی آزادی کے لیے جنگ کی ہے اور افغانستان اور اس کے عوام کےلئے قربانیاں دی ہیں ۔