طبی نسخہ معالج کی تشخیص، علم ، تجربہ اور مریض کی صحت کی بحالی کی عکاسی کرتا ہے، ڈاکٹر سکندر اقبال

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا ہے کہ طبی نسخہ کو درست انداز میں لکھنا محفوظ علاج کی پہلی سیڑھی ہے، طبی نسخہ محض ادویات کے نام لکھ دینا ہی نہیں بلکہ یہ معالج کی تشخیص، علم ، تجربہ اور مریض کی صحت کی بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ ڈاکٹر اور مریض کے …

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا ہے کہ طبی نسخہ کو درست انداز میں لکھنا محفوظ علاج کی پہلی سیڑھی ہے، طبی نسخہ محض ادویات کے نام لکھ دینا ہی نہیں بلکہ یہ معالج کی تشخیص، علم ، تجربہ اور مریض کی صحت کی بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان سب سے اہم رابطہ طبی نسخہ ہوتا ہے، ایک درست، مکمل اور واضح طبی نسخہ نہ صرف علاج کو موثر بناتا ہے بلکہ مریض کے معالج پر اعتماد کو بھی مستحکم بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ناقص ، غیر واضح یا غیر ذمہ دارانہ طبی نسخہ مریض کی صحت کےلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ عالمی سطح پر طبی نسخہ لکھنا کوئی انتظامی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل کلینیکل، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طبی نسخہ ڈاکٹر کی سوچ، تشخیص اور فیصلہ سازی کا عکاس ہوتا ہے، اس لئے نسخہ لکھتے وقت اس پر مکمل اور بھرپور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ طبی نسخہ لکھنا محض ادویات کے نام لکھ دینا نہیں بلکہ یہ ایک ایسا تحریر فیصلہ ہے جو ڈاکٹر کی تشخیص، علم، تجربہ اور مریض کی خیر خواہی کا عکاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معالج حضرات کو یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے لکھے گئے طبی نسخہ کے ہر لفظ کا اثر مریض کی زندگی پر مرتب ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طب جدید میں دانشمندانہ نسخہ نویسی پر زور دیا جاتا ہے تاکہ کم از کم ادویات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ طبی نسخہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کا ایک تحریری معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت مریض اپنی صحت ڈاکٹر کے سپرد کرتا ہے لہٰذا ایک معالج کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل، جامع اور واضح نسخہ تحریر کرے تا کہ مریض کا علاج موثر طریقے سے ہو سکے اور اس پر اخراجات کا بوجھ بھی نہ پڑے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ طبی اخلاقیات درس دیتی ہیں کہ کسی کو نقصان نہ پہنچائو لہٰذا طبی نسخہ میں اس اہم اخلاقی درس کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔

انہوں نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ عالمی ادارہ صحت ، ایف ڈی اے سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی طبی اداروں نے طبی نسخہ لکھنے کے حوالے سے رہنما اصول مرتب کئےہیں جن کے مطابق ہر نسخہ میں مریض کی مکمل معلومات، واضح تشخیص، دوا کا درست نام ، مقدار ، طریقہ استعمال اور استعمال کا دورانیہ درج ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر واضح مخففات، پڑھنے میں مشکل لکھائی اور ادھوری ہدایات سے سختی سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ طبی غلطیوں سے بچا جاسکے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طبی نسخہ پر محض دوا کا نام لکھ دینا ہی کافی نہیں بلکہ مریض کو یہ بھی سمجھانا چاہئے کہ دوا کب، کیسے اور کتنی دیر لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی واضح ہدایات مریض کے علاج کو آسان بنا دیتی ہیں اور دوائوں کے غلط استعمال کے خطرات کو بھی کم کرتی ہیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ بچوں کا نسخہ انتہائی حساس ہوتا ہے کیونکہ ان کی دوا وزن کے مطابق ہوتی ہے اس لئے بچوں کے طبی نسخے تحریر کرتے وقت بچوں کے وزن ، دوا کی مقدار کو بنیادی اہمیت دینی چاہئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے قوانین کے مطابق ہر ڈاکٹر قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ صرف وہی دوا تجویز کرے جس کی اسے اجازت ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی مریضوں کو غلط طبی نسخے سے نقصان پہنچے تو ڈاکٹر کے خلاف طبی غیر ذمہ داری کا مقدمہ بن سکتا ہے ۔ اپنی رپورٹ کے آخر میں انہوں نے کہا کہ طبی نسخہ لکھنا ایک فن، سائنس اور اخلاقی فریضہ ہے ، بہترین معالج وہی ہے جو صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ مریض کے تحفط، عزت، مالی حیثیت اور بھلائی کو بھی مقدم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صرف بیماری کے علاج کےلئے دوا تشخیص نہیں کرتا بلکہ مریض کےلئے امید، اعتماد اور شفا کی علامت سمجھا جاتا ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ طبی نسخہ تجویز کرتے وقت ڈاکٹرز اپنی مہارت، دیانتداری اور طبی اخلاقیات کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔