عالمی ادارہ صحت کا ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو پالیسی سازی میں شامل کرنے پر زور

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جامع اور حقوق پر مبنی ذہنی صحت کی سہولیات کے فروغ کے لیے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو پالیسی سازی اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق فیصلوں میں مؤثر طور پر شامل کرنے پر زور دیا ہے۔عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ایسے افراد کومحض اپنے ذاتی تجربات بیان …

اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جامع اور حقوق پر مبنی ذہنی صحت کی سہولیات کے فروغ کے لیے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو پالیسی سازی اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق فیصلوں میں مؤثر طور پر شامل کرنے پر زور دیا ہے۔عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ایسے افراد کومحض اپنے ذاتی تجربات بیان کرنے کے لیے مدعو کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں فیصلہ سازی پراثرانداز ہونے، خدمات کی مشترکہ تشکیل اور ذہنی صحت کی سہولیات کے معیار اور رسائی کو بہتر بنانے کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔

عالمی ادارہ صحت نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ذاتی تجربات پر مبنی علم ایک قیمتی مہارت ہے، جس سے ایسی بصیرت حاصل ہوتی ہے جو صرف علمی تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے مکمل طور پر حاصل نہیں کی جا سکتی۔ادارے نے زور دیا کہ بامعنی شمولیت کے لیے علامتی مشاورت سے آگے بڑھ کر ایسےفیصلوں میں حقیقی شرکت کو یقینی بنانا ضروری ہے جو ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کی زندگی، وقار اور فلاح و بہبود پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق ذاتی تجربات رکھنے والے افراد کی شمولیت سے باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کو تقویت دینے، سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے اور ذہنی صحت کی خدمات میں جوابدہی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان افراد کی شرکت سے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو زیادہ انسان دوست بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے، کیونکہ اس طرح پالیسیاں اور اقدامات علاج کے خواہش مند افراد کی حقیقی ضروریات، خدشات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ادارے نے ذہنی صحت کی خدمات میں تبدیلی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور طویل عرصے تک نفسیاتی اداروں میں رکھنے کے بجائے کمیونٹی کی سطح پر، فرد کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق دیکھ بھال کے نظام کی طرف منتقلی کی ضرورت اجاگر کی۔ڈبلیو ایچ او نے نشاندہی کی کہ ادارہ جاتی مراکز میں قیام افراد کو ان کے خاندانوں اور برادریوں سے الگ کر سکتا ہے اور وہاں ناکافی نگہداشت، جبری اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

ادارے کے مطابق کمیونٹی کی سطح پر خدمات کی فراہمی کی جانب منتقلی کے لیے محتاط منصوبہ بندی، پائیدار مالی وسائل اور مناسب معاون نظام ضروری ہیں تاکہ افراد اپنے وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور اپنی برادریوں میں رہتے ہوئے مناسب نگہداشت حاصل کر سکیں۔ڈبلیو ایچ او نے اس ترجیح کے تحت ذہنی صحت کی خدمات کو ادارہ جاتی مراکز سے کمیونٹی پر مبنی نظام میں منتقل کرنے کے لیے عملی رہنما اصول جاری کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جن کا مقصد زیادہ جامع اور کمیونٹی پر مبنی ذہنی صحت کی سہولیات کے فروغ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔