عالمی ادارہ صحت کی ایران و لبنان میں مراکز صحت پر حملوں بارے اظہار تشویش، بین الاقوامی قانون کے تحت صحت کی سہولیات کو ہر حال میں محفوظ رکھا جانا چاہیے،ڈبلیو ایچ او

جنیوا ۔6مارچ (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور لبنان میں صحت کے مراکز پر ہونے والے حملوں پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق ڈبلیو ایچ اوکے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اژہانوم گریبیسس نے جنیوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت صحت کی سہولیات کو ہر حال میں …

جنیوا ۔6مارچ (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور لبنان میں صحت کے مراکز پر ہونے والے حملوں پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق ڈبلیو ایچ اوکے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اژہانوم گریبیسس نے جنیوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت صحت کی سہولیات کو ہر حال میں محفوظ رکھا جانا چاہیے اور ان پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او متاثرہ ممالک میں اپنے دفاتر کے ساتھ مل کر صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر صحت کے نظام کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا موجودہ تنازعے کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور اب تک 16 ممالک اس بحران سے متاثر ہو چکے ہیں۔ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایران میں تقریباً ایک ہزار افراد شہید جبکہ لبنان میں 50، اسرائیل میں 13 اور خلیجی ممالک میں 11 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی شروع ہو گئی ہے، اندازے کے تحت ایک لاکھ افراد ایران چھوڑ چکے اور لبنان میں 60 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ جنوبی علاقوں میں انخلا کے احکامات کے بعد کم از کم دس لاکھ افراد کے نقل مکانی کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ٹیڈروس اژہانوم گریبیسس نے جوہری تنصیبات کو لاحق خطرات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جوہری سلامتی متاثر ہوئی تو اس کے عوامی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں