عالمی برادری سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے،افتخار علی ملک

لاہور۔28دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے،معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے جنوبی ایشیاء میں امن ومعاشی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اتوار کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 1960 ء میں عالمی بینک کی ثالثی …

لاہور۔28دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے،معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے جنوبی ایشیاء میں امن ومعاشی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اتوار کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 1960 ء میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کی ضمانت ہے۔

بھارت پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا عمل ترک کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔افتخار علی ملک نے کہا کہ پانی ایک بنیادی انسانی حق اور مشترکہ قدرتی وسیلہ ہے، جسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بہائو میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پاکستان میں زراعت، غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کے روزگار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیاء میں امن، تجارت اور معاشی ترقی باہم مربوط ہوئی ہیں، غیر یقینی صورتحال اور دبائو کے ماحول میں یہ اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر جانبدارانہ نگرانی اور موثر نفاذ کے ذریعے سندھ طاس معاہدے کی حرمت کو یقینی بنائیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ مکالمہ، باہمی احترام اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ہی خطے میں پائیدار امن و استحکام کی ضمانت ہے ،جنوبی ایشیا کیلئے تصادم نہیں ،تعاون ہی قابلِ عمل راستہ ہے۔