عالمی برادری قدرتی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے لیے کوششوں کو فروغ دے، چین
عالمی برادری قدرتی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے لیے کوششوں کو فروغ دے، چین

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔23جولائی (اے پی پی):چین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے لیے کوششوں کو فروغ دے۔ شنہوا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کے قدرتی وسائل کے نظم و نسق سے متعلق کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ قدرتی وسائل انسانیت کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہیں اور انسانی بقا کے ساتھ ساتھ پائیدار معاشی و سماجی ترقی کی بنیاد بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو قدرتی وسائل کے بہتر نظم و نسق، عالمی وسائل اور صنعتی سپلائی چینز کے استحکام اور بین الاقوامی امن و ترقی کے فروغ کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امن اور استحکام قدرتی وسائل کے موثر نظم و نسق کی بنیادی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مشترکہ اور جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے نظریے کو اپنانا چاہیے، تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہییں، قدرتی وسائل کے غیر قانونی استحصال اور سمگلنگ کے خلاف مشترکہ کارروائی کرنی چاہیے، سپلائی چینز میں شفافیت اور نگرانی کو بہتر بنانا چاہیے اور مسلح تنازعات میں قدرتی وسائل کے ناجائز استعمال کو روکنا چاہیے۔
چینی مندوب نے کہا کہ مسلح تنازعات کی وجوہات پیچیدہ اور متنوع ہوتی ہیں، جن میں سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل کو تنازعات کی واحد یا بنیادی وجہ قرار دینا درست نہیں اور نہ ہی معمول کی اقتصادی، تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کو سلامتی یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ہر ریاست کو اپنے قدرتی وسائل پر مستقل خودمختاری حاصل ہے اور اس اصول کو چیلنج نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کو پابندیوں، دباؤ اور فوجی طاقت کے ذریعے دوسرے ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے سے باز آنا چاہیے اور نوآبادیاتی طرز کی اجارہ داری اور استحصال کو دوبارہ فروغ نہیں دینا چاہیے۔
چینی مندوب نے کہا کہ چین اہم معدنیات کے لیے ایک کھلے، جامع، منصفانہ، مساوی، تعاون پر مبنی، باہمی فائدے، ماحول دوست اور شفاف عالمی نظامِ حکمرانی کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’ڈی رسکنگ‘‘ یا ’’قومی سلامتی‘‘کے نام پر گروہی سیاست اور محدود اتحاد قائم کرنے کی کوششیں عالمی منڈی کے نظام کو نقصان پہنچائیں گی اور تمام ممالک کے مشترکہ مفادات کو متاثر کریں گی۔
انہوں نے زور دیا کہ قدرتی وسائل اور تنازعات کے درمیان موجود منفی چکر کو توڑنے کے لیے متعلقہ ممالک کی خودمختار اور پائیدار ترقی میں مدد دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری خصوصاً ترقی یافتہ ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے امدادی وعدے پورے کریں اور وسائل سے مالا مال، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو اپنے وسائل کے نظم و نسق کو بہتر بنانے، قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن اور آمدنی بڑھانے میں تعاون فراہم کریں۔
اس سے غربت میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافہ، مقامی آبادی کی فلاح اور پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل کا ایک بڑا پروڈیوسر ، صارف اور تاجر ہونے کے ناطے چین ہمیشہ قدرتی وسائل کے موثر نظم و نسق اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت کرتا آیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر قدرتی وسائل کے شعبے میں باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دے گا، متعلقہ ممالک کو اپنے قدرتی وسائل کو ترقی کا ذریعہ بنانے میں مدد فراہم کرے گا اور دیرپا امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا۔








