عالمی بینک نے شام کے مالیاتی شعبے کی جدیدکاری کے لیے 10 کروڑ ڈالر گرانٹ منظور کر لی

عالمی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے بورڈ نے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے تحت شام میں جدید، محفوظ اور ڈیجیٹل سہولیات سے لیس مالیاتی شعبے کی بنیاد مضبوط بنانے کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔

دمشق۔8اگست (اے پی پی):عالمی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے بورڈ نے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے تحت شام میں جدید، محفوظ اور ڈیجیٹل سہولیات سے لیس مالیاتی شعبے کی بنیاد مضبوط بنانے کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔

اماراتی نیو زایجنسی وام کے مطابق عالمی بینک سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے مالیاتی شعبے کی جدیدکاری کے منصوبے کے تحت ایسی سرمایہ کاری کی جائے گی جس سے مالی لین دین کو زیادہ محفوظ، تیز اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ مالیاتی خدمات تک بہتر رسائی کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ ادائیگیوں کو زیادہ محفوظ اور موثر بنانے، مالیاتی نظام کی شفافیت اور سالمیت کو مضبوط کرنے اور ایسی بنیادی سہولیات کی تیاری میں مدد دے گا جن کے ذریعے مالیاتی شعبہ گھرانوں اور کاروباری اداروں کو بہتر خدمات فراہم کر سکے گا۔

منصوبے پر عمل درآمد کے دوران مالیاتی شعبے کے بنیادی نظام فعال کرنے، سالانہ کم از کم ڈیڑھ کروڑ الیکٹرانک خوردہ ادائیگیوں کو ممکن بنانے اور منصوبے کے تحت تیار کردہ نظام کے ذریعے 5 لاکھ افراد اور کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فعال استعمال میں مدد دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں ڈیڑھ لاکھ خواتین بھی شامل ہوں گی۔شام کے مرکزی بینک کے گورنر محمد صفوت رسلان نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے 10 کروڑ ڈالر کی گرانٹ کی منظوری ملک کے مالیاتی اور بینکاری ڈھانچے کی ترقی میںاہم سنگ میل اور بین الاقوامی معیارات اور بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ جدید مالیاتی شعبے کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک ایک جدید مالیاتی شعبے کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا جو عوام کا اعتماد بڑھانے، اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور شام کو عالمی مالیاتی نظام میں دوبارہ شامل کرنے میں معاون ثابت ہو۔