عالمی بینک کے گلوبل گورننس پریکٹس کے ڈائریکٹر ایڈورڈ اولو و اوکیر کی سربراہی میں سات رکنی وفد کی آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر سے ملاقات

اسلام آباد ۔ 31 جنوری (اے پی پی) عالمی بینک کے گلوبل گورننس پریکٹس کے ڈائریکٹر ایڈورڈ اولو و اوکیر کی سربراہی میں ورلڈ بینک کے سات رکنی وفد نے پاکستان کے آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے محکمہ آڈیٹر جنرل کے ورلڈ بینک سے تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ عالمی بینک کے ڈائریکٹر نے ملک میں عوامی معاشی انتظام کو بہتر …

اسلام آباد ۔ 31 جنوری (اے پی پی) عالمی بینک کے گلوبل گورننس پریکٹس کے ڈائریکٹر ایڈورڈ اولو و اوکیر کی سربراہی میں ورلڈ بینک کے سات رکنی وفد نے پاکستان کے آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے محکمہ آڈیٹر جنرل کے ورلڈ بینک سے تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ عالمی بینک کے ڈائریکٹر نے ملک میں عوامی معاشی انتظام کو بہتر بنانے میں ڈیپارٹمنٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (ڈی اے جی پی) کے کردار کو سراہا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے وفد کو تکنیکی تبدیلیوں کی وجہ سے انتظامی ڈھانچہ میں پیدا ہونے والے مسائل سے متعلق آگاہ کیا۔ اے جی پی نے عالمی بینک کے وفد کو گورننس کی تبدیلیوں انتظامی مالیاتی ضروریات سے متعلق اقدامات بارے آگاہ کیا۔ عالمی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ڈی اے جی پی ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے آڈٹ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور عالمی بینک نے انہی صلاحیتوں اور مہارت کی بناءپر اپنے منصوبوں کا آڈٹ ڈی اے جی پی کے سپرد کیا ہے۔ عالمی بینک کے وفد نے خریداری عمل پر مو¿ثر عملدرآمد اور وقت کی اہمیت پر زور دیا اور ڈی اے جی پی کی فنی مدد کا وعدہ کیا تاکہ ٹھوس جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان جاوید جہانگیر نے غیر ملکی فنڈز کے ذریعے چلنے والے منصوبوں کے آڈٹ اور اس سلسلہ میں مختص وسائل کی اہمیت کا ذکر کیا جن میں موضوع مالیاتی تخمینہ جات کی عدم دستیابی اور عالمی بینک اور عملدرآمد اداروں کے درمیان رابطہ کا فقدان شامل ہے۔ عالمی بینک کے نمائندوں نے تیسرے فریق کی توثیق کے سلسلہ میں ڈی اے جی پی کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور نتیجہ خیز اقدامات کے پروگرام کیلئے تجاویز پیش کرنے کیلئے کہا جس سے فنڈز کی فراہمی سے قبل منسلک اشاریوں کی تصدیق ہو سکے گی۔ ڈی اے جی پی کے افسران نے ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی جس میں ملک بھر میں مختلف آڈٹ اور اکاو¿نٹس دفاتر کے عمل کا جائزہ لیا گیا جس میں بین الاقوامی معیار اور بہترین طریق کار کی تشکیل اور تعمیل میں ڈی اے جی پی کی شراکت کو اجاگر کیا گیا۔ اے جی پی نے اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ آڈٹ کرنے والوں کو ٹھوس ٹیکنالوجیز اور حکمرانی کے نئے طریقوں سے پیش آنے والے خطرات سے نمٹنے کےلئے تربیت دی جانی چاہئے۔