وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عالمی توانائی بحران کے تناظر میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے تاہم اس مقصد کے لئے پائیدار اور قابلِ عمل اقدامات ضروری ہیں، حکومت اور جماعت اسلامی نے عوامی مشکلات میں کمی لانے کے لئے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو موجودہ پٹرولیم ریلیف سکیم …
عالمی توانائی بحران کے تناظر میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے ، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عالمی توانائی بحران کے تناظر میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے تاہم اس مقصد کے لئے پائیدار اور قابلِ عمل اقدامات ضروری ہیں، حکومت اور جماعت اسلامی نے عوامی مشکلات میں کمی لانے کے لئے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو موجودہ پٹرولیم ریلیف سکیم کے دائرہ کار میں توسیع اور آئندہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار ختم کرنے سے متعلق ٹھوس تجاویز مرتب کرے گی۔منگل کو وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا ء اللہ کے ساتھ پریس بریفنگ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں جماعت اسلامی کے تین نمائندے اور حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ سمیت حکومتی نمائندے شامل ہوں گے، کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے، یمن سے متعلق کشیدگی اور خطے میں عدم استحکام نے بھی تیل کی عالمی ترسیل کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ نقل و حمل، انشورنس اور لاجسٹکس کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے،گیس کی رسد بھی ان حالات سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ سے آسٹریلیا تک متعدد ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور موجودہ غیر یقینی صورتحال میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آئندہ ایک، دو یا تین ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں کیا رجحان رہے گا، خطے میں ہر نیا ڈرون حملہ اور میزائل کارروائی توانائی کی عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک ممکنہ نئے بحرانوں سے نمٹنے اور اپنی معیشتوں کو محفوظ بنانے کے لئے وسائل جمع کر رہے ہیں کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کسی بھی معیشت کے لئے شدید معاشی دھچکے کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف عوام خصوصاً معاشرے کے کمزور اور زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں، موجودہ صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ عالمی بحران کارفرما ہے جو پاکستان کے کنٹرول سے باہر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے سفارتی کوششیں کر رہا ہے، پاکستان نے اس سے قبل بھی امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کیا جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششیں اور تہران میں متعلقہ ممالک اور ایران کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے رابطے بھی خطے میں تناؤ کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے لیکن ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے جو وقتی طور پر مقبولیت تو حاصل کر لیں مگر چند ماہ بعد ملکی معیشت کے لئے سنگین مسائل پیدا کر دیں۔
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اقدامات کرنا چاہتی ہے، ان کے مطابق پٹرولیم ریلیف سکیم سے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تقریباً سوا کروڑ افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی دونوں کا مقصد عوام کی مشکلات کم کرنا ہے اور اسی مشترکہ مقصد کے تحت کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ موجودہ ریلیف سکیم کو کس طرح وسعت دی جا سکتی ہے اور آئندہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی کے مرحلہ وار خاتمے کے لئے کیا قابلِ عمل تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں داخلی سلامتی، امن اور سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں،پاکستان میں استحکام کو برقرار رکھنا تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی بحالی کے لئے سیاسی اور داخلی استحکام ناگزیر ہے، اگر ملک میں ہنگامے، مظاہرے اور سیاسی انتشار بڑھیں گے تو معیشت کمزور ہوگی جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی حکومتی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جماعت اسلامی کی قیادت ان کی اپیل پر ہمدردانہ غور کرے گی اور تمام سیاسی قوتیں مل کر ایسا قابلِ عمل راستہ تلاش کریں گی جس سے موجودہ مشکل معاشی حالات میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔







